نومبر 2, 2026

ہم سب درست اور مسئلہ ہمیشہ دوسرا بندن میاں کی نظر میں اصلاح کی اصل بیماری

تحریر : محمد انور بھٹی

بندن میاں کہتے ہیں ہم سب درست ہیں اور مسئلہ ہمیشہ دوسرا ہے یہی وہ جملہ ہے جو اس معاشرے کے ماتھے پر غیر اعلانیہ طور پر لکھ دیا گیا ہے اور اسی جملے نے ہمیں سوچنے سمجھنے بدلنے اور سنبھلنے سے روک رکھا ہے ہم صبح آنکھ کھولتے ہیں تو اخبار میں خرابی دیکھتے ہیں موبائل کھولتے ہیں تو زوال نظر آتا ہے محفل میں بیٹھتے ہیں تو شکایت زبان پر آ جاتی ہے اور پھر ہم سر ہلا کر یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ ملک خراب ہے نظام خراب ہے لوگ خراب ہیں مگر بندن میاں کہتے ہیں سوال یہ نہیں کہ خراب کون ہے سوال یہ ہے کہ درست کون ہے کیونکہ اگر واقعی سب درست ہوتے تو حالات ایسے نہ ہوتے بندن میاں نے عمر بھر لوگوں کو خود کو معصوم ثابت کرتے دیکھا ہے ہر شخص کے پاس اپنی صفائی میں ایک کہانی ایک دلیل ایک مجبوری ایک تاویل موجود ہے کوئی کہتا ہے میں مجبور تھا کوئی کہتا ہے سب یہی کرتے ہیں کوئی کہتا ہے اکیلا میں کیا بدل لوں گا کوئی کہتا ہے اوپر والے ٹھیک ہو جائیں تو نیچے سب ٹھیک ہو جائے مگر بندن میاں مسکرا کر کہتے ہیں اوپر والے بھی تو نیچے ہی سے اوپر پہنچتے ہیں ہم نے اپنی غلطیوں کو معمولی کہہ کر چھوڑ دیا اور پھر انہی معمولی غلطیوں نے مل کر ایک بڑا بحران کھڑا کر دیا ہم نے جھوٹ کو سہولت کہا ہم نے دھوکے کو ہوشیاری کہا ہم نے سفارش کو تعلقات کا نام دیا ہم نے ناانصافی کو مجبوری کہا ہم نے بددیانتی کو حالات کا تقاضا کہا اور یوں آہستہ آہستہ ہمارے ضمیر نے احتجاج کرنا چھوڑ دیا بندن میاں کہتے ہیں اصلاح کا سب سے پہلا زینہ یہی ہے کہ انسان یہ مان لے کہ مجھ سے بھی غلطی ہوتی ہے مگر ہم اس ماننے سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ کہیں ہماری عزت کم نہ ہو جائے حالانکہ عزت تو تب کم ہوتی ہے جب انسان غلطی پر بھی ڈٹا رہے بندن میاں نے دیکھا ہے کہ ہم بچوں کو نصیحتیں کرتے ہیں مگر مثال نہیں بنتے ہم انہیں سچ بولنے کا کہتے ہیں مگر خود فون پر بہانے گھڑ لیتے ہیں ہم انہیں وقت کی پابندی سکھاتے ہیں مگر خود دیر کو معمول بنا لیتے ہیں ہم انہیں بڑوں کا ادب سکھاتے ہیں مگر اختلاف میں بدتمیزی کر بیٹھتے ہیں پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ نئی نسل بگڑ کیوں رہی ہے بندن میاں کہتے ہیں نسلیں تقریروں سے نہیں کردار سے بنتی ہیں اگر باپ اپنی ذمہ داری پوری کرے تو بیٹے کو لمبی نصیحت کی ضرورت نہیں رہتی اگر استاد خود سیکھنے کا عمل جاری رکھے تو شاگرد خود بخود سیکھ جاتا ہے اگر افسر خود قانون کا احترام کرے تو ماتحت کو ڈرانے کی ضرورت نہیں پڑتی مگر ہم نے ہر جگہ ڈنڈا اٹھا رکھا ہے اور کردار نیچے رکھ دیا ہے بندن میاں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ہم دین کو بھی اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں ہمیں جہاں نرمی چاہیے وہاں رحمت یاد آ جاتی ہے اور جہاں دوسروں کو دبانا ہو وہاں سزا کے حوالے مل جاتے ہیں ہم اپنی کوتاہی پر اللہ کی رحمت کا سہارا لیتے ہیں اور دوسروں کی لغزش پر اللہ کے قہر کے نمائندے بن جاتے ہیں بندن میاں کہتے ہیں یہ رویہ اصلاح نہیں بگاڑ پیدا کرتا ہے کیونکہ دین سب سے پہلے انسان کو عاجزی سکھاتا ہے حساب کا خوف دلاتا ہے اور حقوق کی یاد دہانی کراتا ہے مگر ہم نے دین کو بھی بحث بنا دیا عمل نہیں بنایا بندن میاں نے بازار میں دیکھا کہ گاہک دکاندار کو لٹیرا کہہ رہا ہے اور دکاندار گاہک کو بے ایمان دونوں اپنی اپنی جگہ درست اور سامنے والا غلط ٹریفک میں دیکھا ہر گاڑی والا دوسرے کو بے وقوف کہہ رہا ہے مگر اپنی غلطی کسی کو نظر نہیں آتی دفتر میں دیکھا ہر شعبہ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے مگر اپنا حساب دینے کو کوئی تیار نہیں سیاست میں دیکھا ہر پارٹی خود کو نجات دہندہ اور باقی سب کو چور کہہ رہی ہے مگر اپنے گریبان میں جھانکنے کا حوصلہ کسی میں نہیں بندن میاں کہتے ہیں یہ اجتماعی اندھا پن ہے اور یہی اصل بیماری ہے ہم اصلاح کو تقریر سمجھ بیٹھے ہیں حالانکہ اصلاح خاموش محنت مانگتی ہے وہ محنت جو کسی کو دکھائی نہیں دیتی وہ محنت جو تالیاں نہیں بٹورتے وہ محنت جو صرف ضمیر کو مطمئن کرتی ہے بندن میاں کہتے ہیں اگر ایک شخص لائن میں کھڑا ہونا سیکھ لے تو وہ ملک کو تہذیب کا پہلا سبق دے دیتا ہے اگر ایک شخص وعدہ پورا کر لے تو وہ اعتماد کی بنیاد رکھ دیتا ہے اگر ایک شخص جھوٹ سے رک جائے تو وہ سچ کا چراغ جلا دیتا ہے مگر ہم ان چھوٹے کاموں کو حقیر سمجھتے ہیں اور بڑے نعروں کے پیچھے بھاگتے ہیں بندن میاں نے آخر میں یہی سوچا کہ شاید ہمیں آئینے کم اور پردے زیادہ پسند ہیں اس لیے ہم حقیقت دیکھنے سے گھبراتے ہیں ہم چاہتے ہیں کوئی اور آئے اور ہمیں ٹھیک کر دے کوئی اور بدلے اور ہم فائدہ اٹھائیں کوئی اور قربانی دے اور ہم تعریف سمیٹیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ قومیں تب بدلتی ہیں جب عام آدمی خود کو بدلنے پر آمادہ ہوتا ہے بندن میاں کہتے ہیں یہ تحریر کسی کو الزام دینے کے لیے نہیں یہ خود سے سوال کرنے کی دعوت ہے کیونکہ جس دن ہم نے یہ مان لیا کہ ہم سب درست نہیں اور مسئلہ کبھی کبھی میں بھی ہوں اسی دن اصلاح کا سفر شروع ہو جائے گا
بندن میاں کہتے ہیں سفر یہیں رکتا نہیں اصل امتحان یہ ہے کہ انسان مان لینے کے بعد کیا کرتا ہے کیونکہ مان لینا بھی ایک بات ہے اور بدلنا ایک مسلسل جدوجہد بندن میاں نے لوگوں کو مانتے بھی دیکھا ہے اور پھر اگلے ہی لمحے پرانی روش پر لوٹتے بھی دیکھا ہے ہم اعتراف کو بھی ایک رسم بنا چکے ہیں جیسے عید پر گلے مل کر پھر سارا سال وہی فاصلے ہم کہتے ہیں ہاں غلطی ہو گئی مگر دل ہی دل میں یہ بھی طے کر لیتے ہیں کہ آئندہ موقع ملا تو فائدہ ضرور اٹھائیں گے بندن میاں کہتے ہیں اصلاح کا اصل دشمن یہی وقتی شرمندگی ہے جو عادت میں نہیں ڈھلتی ہم تھوڑی دیر کو نادم ہوتے ہیں پھر حالات کو مورد الزام ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ کر لیتے ہیں بندن میاں نے دیکھا ہے کہ ہم محفل میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں کرپشن کے خلاف تقریریں میرٹ کے قصے قانون کی بالادستی کے خواب مگر جب اپنے کام کی باری آتی ہے تو فون ملانا سفارش ڈھونڈنا اور راستہ نکالنا سب سے پہلے یاد آتا ہے پھر ہم مطمئن ہو کر کہتے ہیں میں نے کون سا ملک لوٹ لیا ہے بندن میاں کہتے ہیں ملک ایک دن میں نہیں لٹتا ملک روز تھوڑا تھوڑا لٹتا ہے اور ہر وہ شخص جو اپنی چھوٹی بددیانتی کو چھوٹا سمجھ کر نظر انداز کرتا ہے وہ اس لوٹ مار میں خاموش شریک ہوتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ بڑے مجرم کہیں اور ہیں مگر بڑے مجرم انہی چھوٹی چھوٹی رعایتوں سے پیدا ہوتے ہیں بندن میاں نے استاد کو یہ کہتے سنا کہ تنخواہ کم ہے اس لیے دل نہیں لگتا اور افسر کو یہ کہتے دیکھا کہ اختیارات محدود ہیں اس لیے کچھ نہیں ہو سکتا اور سیاست دان کو یہ کہتے سنا کہ مجبوری ہے اتحادی ناراض ہو جائیں گے بندن میاں مسکرائے اور بولے اگر ہر شخص اپنی مجبوری کو اصول بنا لے تو پھر اصول صرف کتابوں میں رہ جاتے ہیں زندگی میں نہیں بندن میاں کہتے ہیں اصلاح دراصل یہی ہے کہ انسان اپنی مجبوری اور اپنے اصول میں فرق کرنا سیکھ لے اصول وہ ہوتا ہے جسے مشکل میں بھی نہ چھوڑا جائے اور مجبوری وہ ہوتی ہے جسے ہم آسانی سے اصول بنا لیتے ہیں بندن میاں نے ماں کو دیکھا جو غربت میں بھی بچوں کو جھوٹ نہیں سکھاتی اور باپ کو دیکھا جو طاقت میں بھی ناانصافی سے بچتا ہے اور مزدور کو دیکھا جو فاقہ کرتا ہے مگر حرام نہیں کھاتا بندن میاں کہتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو معاشروں کو بچاتے ہیں مگر بدقسمتی سے یہی لوگ خبروں میں نہیں آتے کیونکہ ان کے پاس کہانیاں نہیں ہوتیں کردار ہوتا ہے بندن میاں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ہم ہر وقت کسی مسیحا کے انتظار میں رہتے ہیں کوئی آئے اور سب ٹھیک کر دے کوئی اوپر سے حکم دے اور نیچے سب بدل جائے مگر بندن میاں کہتے ہیں مسیحا تب پیدا ہوتا ہے جب قوم خود مسیحا بننے کی کوشش کرے ورنہ صرف چہرے بدلتے ہیں رویے نہیں بندن میاں نے نوجوان کو کہتے سنا کہ جب بڑوں نے سب بگاڑ دیا ہے تو ہم کیوں سیدھے رہیں اور بزرگ کو کہتے سنا کہ نئی نسل خراب ہے اس سے کیا امید رکھی جائے بندن میاں کہتے ہیں یہ بھی ایک آسان راستہ ہے الزام کا راستہ مگر حقیقت یہ ہے کہ نسلیں ایک دوسرے کا عکس ہوتی ہیں جو بیج آج بویا جائے گا وہی کل کا پھل بنے گا بندن میاں کہتے ہیں اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والا کل بہتر ہو تو آج کے معمولات بہتر کرنا ہوں گے ہمیں اپنے گھروں میں انصاف لانا ہوگا اپنے وعدوں میں سچ لانا ہوگا اپنے اختلاف میں شائستگی لانی ہوگی ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ اختلاف دشمنی نہیں اور تنقید تذلیل نہیں بندن میاں کہتے ہیں اصلاح یہ بھی ہے کہ انسان طاقت میں ہو تو نرم رہے اور کمزور ہو تو مضبوط اصولوں پر قائم رہے کیونکہ اصل امتحان طاقت کا ہی ہوتا ہے کمزور تو ویسے ہی مجبور ہوتا ہے بندن میاں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہم سب درست اور مسئلہ ہمیشہ دوسرا یہ سوچ ہمیں وقتی تسکین تو دیتی ہے مگر مستقل تباہی کا راستہ بھی یہی ہے کیونکہ اس سوچ میں انسان خود کو بدلنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا اور جو خود کو بدلنے کی ضرورت نہ سمجھے وہ کبھی نہیں بدلتا بندن میاں آخر میں یہی کہتے ہیں اگر ہم واقعی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں یہ جملہ بدلنا ہوگا ہمیں کہنا ہوگا میں شاید غلط ہوں اور دوسرا شاید درست ہو سکتا ہے یہی شاید کا دروازہ ہمیں سیکھنے سننے اور سنبھلنے کا موقع دے گا اور جس دن یہ دروازہ کھل گیا اسی دن یہ معاشرہ بھی سانس لینا شروع کر دے گا۔