جون 2, 2026

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کر لی

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اتحاد کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری مؤقف میں کہا گیا کہ اپوزیشن اتحاد پارلیمان کی بالادستی، آئین، قانون اور انسانی حقوق کے احترام پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ آئینی اور جمہوری اقدار کے استحکام کے لیے مذاکرات ضروری ہیں۔

اپوزیشن اتحاد کے مطابق اگر سیاسی قوتیں آئین کی بحالی، پارلیمانی اور سویلین بالادستی پر اتفاق کریں تو بات چیت ممکن ہے۔ ترجمان کے مطابق شفاف انتخابات، متفقہ الیکشن کمشنر کی تقرری، سیاسی و معاشی بحران، امن و امان اور گورننس کے مسائل کے حل کے لیے ایک نئے قومی میثاق کی ضرورت ہے۔ نئے میثاق پر بانی پی ٹی آئی کے دستخط لینے کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی نے لینے کا عندیہ دیا ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نائب صدر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اتحاد حکومت سے آئین اور نئے میثاق پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے اور حکومت اگر سنجیدگی دکھائے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ شامل نہیں ہوگا۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے حکومتی پیشکش پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے اپوزیشن اتحاد کی قیادت کو مذاکرات سے متعلق مکمل اختیار دے رکھا ہے اور انہیں اتحاد کی قیادت پر اعتماد ہے۔