جون 3, 2026

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا وزیر اعظم سے رابطہ، کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کی پیرول پر رہائی کا مطالبہ

سیاسی مفاہمت کے فروغ کے لیے قائم کی گئی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی (این ڈی سی) سے وابستہ پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنماؤں کے ایک گروپ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے باضابطہ رابطہ کرتے ہوئے کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کو پیرول پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان رہنماؤں کی رہائی مجوزہ مذاکراتی عمل کی قیادت، ساکھ اور نتیجہ خیزی کے لیے ناگزیر ہے۔ این ڈی سی کی جانب سے 23 دسمبر کو وزیر اعظم کو ارسال کیے گئے خط میں اپوزیشن، بالخصوص پی ٹی آئی، کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کو ملک میں بڑھتے سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی بحرانوں کے تناظر میں ایک سنہری موقع قرار دیا گیا ہے۔
خط میں واضح طور پر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا ذکر شامل نہیں کیا گیا، جبکہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل سے باہر موجود سینئر قیادت ہی مذاکراتی عمل کے آغاز اور تسلسل میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
خط میں کوٹ لکھپت جیل میں قید جن رہنماؤں کی پیرول پر رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، ان میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور سابق سینیٹر اعجاز چوہدری شامل ہیں۔ کمیٹی کے مطابق ان رہنماؤں کی رہائی اعتماد سازی کے عمل کا اہم حصہ ہوگی اور مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان اعتماد کی بحالی میں مدد دے گی۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر میثاقِ جمہوریت اور میثاقِ معیشت پر اتفاق رائے کے لیے کردار ادا کریں، جو ملک کے طویل المدتی سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
اس خط پر پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں محمود مولوی، عمران اسمٰعیل اور فواد چوہدری کے دستخط موجود ہیں، جنہوں نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے مقصد سے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی تشکیل دی ہے۔