جون 3, 2026

اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری رہے تو امریکا سے مذاکرات بند کر دیں گے، ایرانی قیادت کی سخت وارننگ

ایران کی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں سخت موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت برقرار رہنے کی صورت میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات فوری طور پر روک دیے جائیں گے۔

​اس حوالے سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے متنبہ کیا ہے کہ لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں مزاحمتی محور کو جوابی کارروائی پر مجبور کر دیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمتی محور باب المندب کی بحری ٹریفک کے ساتھ وہی سلوک کر سکتا ہے جو آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے۔ دریں اثنا، ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے صیہونی حکومت اور امریکی افواج کو تنبیہ کی کہ یہ کوئی کھوکھلی دھمکی نہیں ہے؛ ایران فوجی جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان جارحانہ اقدامات کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔