جون 15, 2026

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ ، پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا گیا

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے عابدہ پروین اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے آرڈیننس کے تحت دیے گئے قبضے واپس کرنے کا حکم دے دیا جبکہ فل بینچ تشکیل دینے کی سفارش بھی کر دی گئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ قانون برقرار رہا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی ہو جائے گا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب معاملہ سول کورٹ میں زیرِ سماعت ہو تو ریونیو افسر قبضہ کیسے دلا سکتا ہے، یہ قانون عدالتی سپرمیسی اور شہری حقوق کے منافی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس قانون کے ذریعے سول سیٹ اپ اور سول رائٹس کو ختم کر دیا گیا ہے، حتیٰ کہ ہائیکورٹ کو حکمِ امتناعی دینے سے بھی روکا گیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جعلی رجسٹریوں اور جعلی دستاویزات کے ذریعے لوگوں کے گھروں پر قبضے ممکن ہو جائیں گے۔

عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈی سی کسی کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دے دے تو اپیل کا کوئی حق باقی نہیں رہتا، جو قانون کی روح کے خلاف ہے۔ عدالت نے تمام درخواستوں پر اعتراضات دور کرتے ہوئے فل بینچ بنانے کی سفارش کر دی۔