امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کے حالیہ انٹرویوز نے امریکی سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق سوزی وائلز نے ایک معروف امریکی میگزین کو دیے گئے سلسلہ وار انٹرویوز میں ٹرمپ، ان کے دوسرے دورِ صدارت کے ایجنڈے اور چند قریبی اتحادیوں کے بارے میں غیر معمولی صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔
انٹرویوز میں سوزی وائلز نے صدر کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ شراب نوشی سے پرہیز کے لیے مشہور ہیں، تاہم ان کی شخصیت ’’شرابیوں جیسی‘‘ محسوس ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جانتی ہیں کہ ٹرمپ شراب نہیں پیتے، مگر ان کا رویہ اور انداز ویسا ہی ہے جیسا اکثر شرابی افراد کا ہوتا ہے۔
سوزی وائلز نے صدر کی انتقامی سوچ کو بھی تسلیم کیا اور کہا کہ دوسرے دورِ صدارت کے کئی اقدامات بدلہ لینے کی خواہش سے متاثر نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ صبح اٹھ کر انتقام کے بارے میں نہیں سوچتے، لیکن جب موقع ملتا ہے تو وہ اس سمت میں اقدام کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ اس یقین کے ساتھ حکومت کرتے ہیں کہ دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جو وہ نہ کر سکیں۔
انٹرویوز کے دوران سوزی وائلز نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ٹرمپ وینزویلا میں کشتیوں پر بم حملوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کے خواہاں تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض معاملات میں، جن میں ملک بدریاں اور صدارتی معافیاں شامل ہیں، ٹرمپ نے ان کے مشوروں کو نظرانداز کیا۔
چیف آف اسٹاف نے نائب صدر جے ڈی وینس کو سازشی نظریات رکھنے والا قرار دیا جبکہ ٹیکنالوجی کے ارب پتی ایلون مسک کو ’’بک بک کرنے والی بطخ‘‘ سے تشبیہ دے دی، جس پر سیاسی اور سوشل میڈیا حلقوں میں خاصا ردعمل سامنے آیا۔
دوسری جانب سوزی وائلز کا کہنا ہے کہ میڈیا نے ان کے بعض بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوزی وائلز کا دفاع کرتے ہوئے ان کے کام کی تعریف کی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ ماضی میں سوزی وائلز کو ایک نہایت طاقتور شخصیت قرار دے چکے ہیں، جو ایک فون کال کے ذریعے عالمی معاملات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایک علیحدہ بیان میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس سوزی وائلز سے زیادہ کوئی بڑا یا زیادہ وفادار مشیر نہیں، اور پوری انتظامیہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔





