ملک بھر میں میٹرک کی سطح پر تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے دو نئے تعلیمی گروپس متعارف کرانے کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔ ان نئے گروپس میں ٹیکنیکل اور زراعت شامل ہیں جن کا مقصد طلبہ کو عملی مہارتوں اور پیشہ ورانہ تعلیم کی جانب راغب کرنا ہے۔
ان تجاویز پر غور کے لیے انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین (آئی بی سی سی) نے مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے جو 23 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں میٹرک کی سطح پر نئے گروپس کے مضامین کی گروہ بندی، ان کی مساوات اور طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے متبادل راستوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران انٹر میں پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ گروپس میں داخلے کی اہلیت پر بھی غور کیا جائے گا، خاص طور پر اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ٹیکنیکل اور زراعت کے مضامین پڑھنے والے طلبہ مستقبل میں میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں داخلہ حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔
اس کے علاوہ میٹرک کی سطح پر متبادل مضامین کی مساوات، جنرل اور ووکیشنل ٹریننگ سے متعلق تعلیم، اور غیر ملکی تعلیمی اسناد کی مساوات کے معاملات بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔ اجلاس میں تعلیمی اصلاحات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک قومی ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف میٹرک کے طلبہ کو تعلیم کے زیادہ متنوع مواقع میسر آئیں گے بلکہ ملک میں ٹیکنیکل اور زرعی شعبوں کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری میں بھی مدد ملے گی۔





