جون 14, 2026

بلوچستان کا ابھرتا ہوا اعتماد

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

35 ویں نیشنل گیمز میں بلوچستان کی مجموعی کارکردگی اس بار نمایاں رہی۔ برسوں تک صوبے کے کھلاڑی کم وسائل، محدود کوچنگ اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث پس منظر میں نظر آتے رہے، لیکن رواں گیمز میں بلوچستان نے جس طرح مختلف مقابلوں میں اپنی جگہ بنائی اور مسلسل میڈلز حاصل کیے، اس نے ایک نئے اعتماد کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سانچ کے قارئین کرام کے لیے یہاں 11 دسمبر 2025 تک کی مستند اور تصدیق شدہ کارکردگی پیش کی جا رہی ہے۔کراچی میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے ہمراہ شرکت کی۔ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، آرمی، واپڈا، پولیس، ایچ ای سی، نیوی، ایئر فورس اور ریلوے کے دستوں نے مارچ پاسٹ میں حصہ لیا۔ یہ افتتاح اس بات کا اعلان تھا کہ ملک بھر کے کھلاڑی ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لیے میدان میں موجود ہیں۔بلوچستان نے ابتدائی دنوں میں ہی اپنی موجودگی اس وقت نمایاں کر دی جب کراٹے کے ایونٹ میں صوبے کی نمائندہ خاتون کھلاڑی نے 50 کلوگرام کیٹیگری میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ یہ جیت کسی بھی لحاظ سے معمولی نہ تھی، کیونکہ مقابلے میں ان کا سامنا وہ حریف تھی جو روایتی طور پر مضبوط اور تجربہ کار سمجھی جاتی ہے۔ بلوچستان میں خواتین کھلاڑیوں کے لیے راستے پہلے ہی محدود ہیں۔ ایسے میں یہ کامیابی نہ صرف تکنیکی برتری کی علامت ہے بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر صوبے کی بیٹیوں کو مناسب مواقع ملیں تو وہ قومی سطح پر نمایاں مقام بنا سکتی ہیں۔ڈائریکٹر جنرل کھیل بلوچستان ڈاکٹر یاسر خان بازئی کی جانب سے اس کھلاڑی کے لیے انعام کا اعلان اسی حوصلہ افزائی کا حصہ ہے۔فینسنگ میں بلوچستان کی کارکردگی رواں گیمز کا سب سے روشن باب ہے۔ انفرادی ایونٹ میں ایک نوجوان خاتون فینسر نے گولڈ میڈل حاصل کیا، جبکہ اسی مقابلے میں بلوچستان ہی کی دوسری کھلاڑی نے سلور میڈل اپنے نام کیا۔ یہ لمحہ خود بلوچستان کے لیے تاریخی تھا کیونکہ دونوں کھلاڑی فائنل میں آمنے سامنے تھیں اور یہ بات طے تھی کہ پہلا اور دوسرا دونوں اعزاز بلوچستان کے حصے میں آئیں گے۔ یہ کارکردگی نہ صرف تربیتی عمل کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس کھیل میں بلوچستان کی نئی نسل کے ابھرنے کی علامت بھی ہے۔فینسنگ ٹیم کے کوچ محمود شریف نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا جن کی رہنمائی میں کھلاڑیوں نے جدید تکنیک، رفتار اور دفاعی مہارت کا بہترین امتزاج دکھایا۔

بلوچستان فینسنگ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل حاجی محمد قاسم کی مسلسل محنت اور تنظیمی کوششوں کو بھی کھلاڑیوں نے نمایاں طور پر سراہا۔ بلوچستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شیر محمد ترین اور وائس پریذیڈنٹ گل محمد کاکڑ نے گولڈ اور سلور میڈل جیتنے والی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں مبارکباد کے ساتھ حوصلہ دیا۔کراٹے کے کاتا ایونٹ میں فاطمہ چنگیزی نے براؤنز میڈل جیت کر صوبے کی کارکردگی میں مزید اضافہ کیا۔ اسی طرح ریسلنگ میں سیف اللہ، تائیکوانڈو میں حمیدہ ہزارہ، باڈی بلڈنگ میں ظفر خان اور کراٹے کے ایک اور ایونٹ میں قاسم نے بھی میڈلز حاصل کیے۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت اور جذبے کے بل پر قومی سطح پر جگہ بنائی۔بلوچستان کی ٹیم نے اس سال ووشو میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ 22 رکنی اسکواڈ میں سے 19 کھلاڑیوں کا سیمی فائنل تک پہنچنا کسی بھی صوبے کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔ ووشو تکنیکی اور جسمانی طور پر سخت کھیل ہے، اور اس مقابلے میں اتنے زیادہ کھلاڑیوں کا آخری مراحل تک جانا تربیتی نظام کی بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔فی میل اسکواش ٹیم نے بھی اب کی بار اپنی موجودگی مزید مضبوط کی۔ ٹیم ایونٹ میں براؤنز میڈل نے ثابت کیا کہ بلوچستان اب صرف چند کھیلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔میڈل ٹیبل کے مطابق 11 دسمبر تک بلوچستان نے دو گولڈ، چھ سلور اور گیارہ براؤنز میڈلز حاصل کیے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر بیس سے زیادہ میڈلز کے ساتھ صوبہ اپنی بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے۔ اگرچہ آرمی 144 گولڈ کے ساتھ واضح برتری پر ہے، اس کے بعد واپڈا اور نیوی کی پوزیشنیں قائم ہیں، لیکن بلوچستان کی میڈل کارکردگی اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ صوبہ کم وسائل کے باوجود اپنی جگہ بنا رہا ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ بلوچستان کے کھلاڑی عام طور پر ان بڑے ڈیپارٹمنٹس کے مقابلے میں آتے ہیں جن کے پاس جدید سہولیات، سینئر کوچز اور بڑے تربیتی مراکز دستیاب ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں بلوچستان کا بار بار میڈل جیتنا محض ایک کامیابی نہیں بلکہ ایک علامتی پیش رفت ہے۔ یہ پیغام ہے کہ اگر ٹیلنٹ کو سہارا ملے تو وہ کسی بھی بڑی رکاوٹ کو عبور کر سکتا ہے۔بلوچستان کی مجموعی کارکردگی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر صوبے میں کھلاڑیوں کو مستقل بنیادوں پر معاونت، تربیت اور سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ مستقبل میں بھی ملک بھر کے مقابلوں میں اہم مقام بنا سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی حکام اس رفتار کو جاری رکھیں، کھیلوں کی سرپرستی کو مزید مضبوط کریں اور ان نتائج کو پالیسی کا حصہ بنائیں۔35 ویں نیشنل گیمز نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ بلوچستان نہ صرف خود کو ثابت کر رہا ہے بلکہ اس مقام کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا وہ حق دار ہے۔ یہ سفر ابھی طویل ہے، لیکن آغاز حوصلہ افزا ہے۔ اب ذمہ داری اداروں پر ہے کہ وہ اس سلسلے کو مضبوط رکھیں اور بلوچستان کے کھلاڑیوں کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھولیں۔