جون 9, 2026

مولانا ارشد مدنی کا بیان: وندے ماترم پڑھنے پر اعتراض نہیں، مگر مسلمان عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرسکتا

جمعیت علمائے ہند(الف) کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین مولانا ارشد مدنی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ہمیں کسی کے وندے ماترم پڑھنے یا گانے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اس عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرسکتا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں مولانا ارشد مدنی نے وضاحت کی کہ وندے ماترم میں ایسے الفاظ شامل ہیں جو شرکیہ عقائد پر مبنی ہیں، خاص طور پر ان اشعار میں جہاں وطن کو ’دُرگا ماتا‘ سے تشبیہ دی گئی ہے اور عبادت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جو مسلم عقیدے کے مطابق قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی آئین بھی ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ اسے اس کے عقیدے کے خلاف کسی نعرے، گیت یا نظریے کو اپنانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن سے محبت ایک الگ جذبہ ہے جبکہ عبادت صرف اللہ کے لیے خاص ہے، اس لیے بھارت کے مسلمانوں کو اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے کسی سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں۔ مولانا مدنی کے مطابق وندے ماترم کا مکمل مفہوم ’ماں میں تیری پوجا کرتا ہوں‘ اور ’ماں میں تمہاری عبادت کرتا ہوں‘ ہے، جو صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ نظم ہندو دیوی دُرگا کی مدح میں لکھی گئی ہے نہ کہ مادر وطن کے لیے۔