امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران پر جوابی حملہ کیا تو امریکا اس میں حصہ نہیں لے گا۔ اتوار کی رات ایران نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملوں کے جواب میں اسرائیل پر میزائل داغ دیے تھے، جس پر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل فائر کیے گئے ہیں اور فضائی دفاعی نظام ان میزائل حملوں کو ناکام بنا رہا ہے۔ ایرانی حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان فون پر اہم گفتگو ہوئی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس ٹیلیفونک گفتگو میں نیتن یاہو نے امریکی صدر کو ایران پر حملہ کرنے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا، جس پر امریکی صدر نے صاف کہا کہ اگر ایسا حملہ کیا گیا تو امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا۔
علاوہ ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی اخبار ‘فنانشل ٹائمز’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس اب ایران کے ساتھ معاہدہ قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ان تازہ حملوں نے امریکا-ایران مذاکرات مکمل کرنے کی امریکی خواہش کو نہیں بدلا۔ برطانوی اخبار کے صحافی نے جب صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ اگر یہ معاہدہ ناکام ہوا تو کیا ہوگا؟ جس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں ایران پر کمانڈو آپریشن پر غور کریں گے۔





