تحریر: محمدانوربھٹی
بندن میاں آج حسبِ روایت فیس بک پر مٹر گشت کر رہے تھے۔ عمر نے چاہے کمر میں درد ڈال دیا ہو، مگر قوم کے درد نے اب تک ان کی آنکھوں کی نمی نہیں چھینی۔ چائے کی پیالی ہاتھ میں تھامے وہ ویڈیو اسکرول کر رہے تھے جس میں دو ننھی بچیوں کے بے جان جسم سڑک کے کنارے پڑے تھے۔ چائے کی بھاپ جیسے بندن میاں کی آنکھوں کے آگے دھواں بن کر لہرائی، اور اس کے پیچھے سے وہ پوسٹ ابھری جس نے دل کے اندر چرکے پر چرکا لگایا جج کے نابالغ لڑکے نے نان کسٹم پیڈ لگژری گاڑی دوڑا کر دو محنت کش بچیوں کو روند دیا۔اور پھر اسکی چار دن بعد ضمانت ہوکد گھر واپس آگیا۔
بندن میاں نے چائے کا گھونٹ لیا مگر ذائقہ کڑوا ہو چکا تھا۔ وہ کڑواہٹ چائے کی نہیں تھی ریاست کی تھی، قانون کی تھی، اور اُس انصاف کی تھی جو کبھی غریب کی دہلیز پر اترتا ہی نہیں۔ انہوں نے آہستہ آواز میں کہا، اللہ معاف کرے چار دن میں؟ دو جانیں چلی گئیں اور چار دن میں؟ یہ وہ سوال تھا جو بندن میاں نے زبان سے تو ایک بار کہا مگر دل کے اندر ہزار بار دہرایا۔
چند لمحے بعد اس پوسٹ کے نیچے لکھی اگلی خبر نے بندن میاں کو اندر تک ہلا دیا جج کے دو سیب چوری ہوگئے، پولیس حرکت میں آگئی، ایف آئی آر درج کر لی گئی، ایسی دفعہ لگائی جس کی سزا آٹھ سال قید ہے۔
بندن میاں کی ہنسی نکلتے نکلتے آنسو بن گئی۔ انہوں نے موبائل نیچے رکھا، چائے کی پیالی میز پر رکھی اور اپنی سانس بھی روک لی۔ بولے واہ رے وطن تُو تو واقعی دو سیب کی ریاست بن گیا ہے۔ دو سیب بھاری دو لاشیں ہلکی۔
بندن میاں نے موبائل دوبارہ اٹھایا اور اپنے اندر کی گھٹن الفاظ میں ڈھالنے لگے۔ انہوں نے اس پوسٹ کو دیکھا نہیں، محسوس کیا۔ اس پر لکھا ہر لفظ ایک حقیقت کا نوحہ تھا اور ہر حقیقت ایک لاش تھی جسے اس ریاست نے خود ہی مارا تھا۔ بندن میاں کو یوں لگا جیسے اُن کے کانوں میں وہ چیخیں گونج رہی ہوں جو ان دو بچیوں کی ماؤں نے گھرمیں آئی بیٹیوں کے لاشے دیکھ ماری ہوں گی۔ وہ بے بسی جس سے والدین اور بھائیوں نے اپنی بیٹیوں کے جسم اٹھائے ہوں گے بندن میاں نے آنکھوں پر ہاتھ رکھا اور سوچا کہ یہ ملک آخر چلا کون رہا ہے؟ انصاف یا سفارش؟ قانون یا لاڈلے؟
یہ سوال بندن میاں نے پہلی بار نہیں کیا تھا، مگر اس بار اُن کی روح اس سوال کا جواب بھی جانتی تھی، چاہے ماننے سے انکاری تھی۔ اس ملک میں سب کچھ چل رہا ہے مگر قانون نہیں۔ قانون چلتا ہے تو صرف وہاں جہاں سامنے غریب کھڑا ہو۔ جو نہ میڈیا رکھتا، نہ وکیل، نہ آشنا، اور نہ سفارش۔
بندن میاں کے دل پر بوجھ اس وقت اور بڑھ گیا جب انہوں نے سوچا کہ دو سیب کے گم ہونے پر پولیس کی دوڑتی ہوئی گاڑیاں، تفتیشی ٹیمیں، ریکارڈنگ، سی سی ٹی وی فوٹیج، اہلکاروں کی لائنیں، سب کچھ حرکت میں آیا۔ جیسے ریاست کا وجود انہی دو سیبوں سے قائم تھا۔ جیسے ملک کی عزت انہی میں چھپی تھی۔ اور دو بچیوں کا قتل؟ وہ صرف “حادثہ” تھا۔ ایک غیر سنجیدہ غلطی۔ ایک چائلڈ ڈرائیونگ کا مسئلہ۔ اور پھر چار دن بعد سب ٹھیک۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
بندن میاں نے دیکھا، یہ ریاست اب وہ نہیں کہ جسے ان کے بزرگ اپنی زندگی کا مان سمجھتے تھے۔ اب یہ ریاست ایک منڈی بن چکی ہے ضمیروں کی منڈی۔ انصاف کی قیمتیں مختلف، آدمی کی قیمت مختلف، غریب کی جان کی قیمت صفر۔
بندن میاں نے گہری سانس لی اور یاد آیا کہ ان کے والد کہا کرتے تھے بیٹا قانون سب کے لیے برابر ہے۔ بندن میاں نے افسردہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا ابا جی قانون برابر تو آج بھی ہے۔ بس کسی کے سر پر رکھا جاتا ہے، کسی کی گردن پر۔
بندن میاں نے پھر سوچا، اگر یہ دو بچیاں کسی افسر کے گھر کی بیٹیاں ہوتیں؟ اگر یہ بچیاں کسی بڑے آدمی کے خاندان کی ہوتیں؟ کیا پھر بھی چار دن میں سب بھلا دیا جاتا؟ کیا پھر بھی گاڑی ضبط نہ ہوتی؟ کیا پھر بھی پولیس افسران کی آنکھوں میں ایسا ہی سکون ہوتا؟ نہیں جناب، پھر تو پورا نظام ہل جاتا۔ پھر پورا شہر کڑی ناکا بندی میں بند ہو جاتا۔ پھر گاڑیاں چھاپے مارتی گھومتیں۔ پھر عدالت کے تین تین جج کھڑے ہو کر فیصلہ سناتے۔ مگر یہاں دو بچیاں تھیں۔ غریب۔ پس دیوار۔ ایسے لوگوں کی جانوں کا تو حساب بھی کوئی نہیں رکھتا۔
بندن میاں نے سوچا کہ وہ مائیں اب کیا کرتی ہوگی؟ وہ جس کی کوکھوں نے دو زندگیاں پالیں، جنہوں نے دو وقت کی روٹی کے لیے کپڑے سیے ہوں گے، گھروں میں برتن دھوئے ہوں گے، وہ اب کس کو آواز دیں گی؟ بندن میاں جانتے تھے ان ماؤں کے آنسوؤں کا کوئی خریدار نہیں۔ ان کے درد کی کوئی واپسی نہیں۔ ان کا انصاف چار دن میں گھر نہیں آتا۔ ان کا انصاف یا تو قبر میں جاتا ہے یا پھر فائلوں میں دفن ہو جاتا ہے۔
بندن میاں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا ہائے میرے وطن تُو واقعی اُن حرام خور پلّوں کے قبضے میں ہے جن کے پیٹ کبھی بھرے نہیں جاتے، جن کی آنکھیں کبھی سیر نہیں ہوتیں، جن کے ضمیر کبھی جاگے نہیں۔
بندن میاں کے ذہن میں سوال اٹھا کہ یہ سب دیکھ کر بھی لوگ چپ کیوں ہیں؟ کیوں یہ قوم ہر روز ظلم دیکھ کر چند لمحے افسوس کرتی ہے اور پھر اگلی پوسٹ، اگلے لطیفے، اگلی تصویر پر ہنسنے لگتی ہے؟ کیوں اس ملک میں ہر سانحہ معمول بن چکا ہے؟ کیوں ہم ظلم پر چیخنے کے بجائےخاموش رہ کر ظالم کی مدد کرتے ہیں؟
بندن میاں نے خود سے پوچھا بندن میاں تم کیوں جل رہے ہو؟ تم کیوں رو رہے ہو؟ مگر جواب وہی آیا کیونکہ بندن میاں آج بھی انسان ہے۔ اس کا دل ابھی اتنا سستا نہیں ہوا کہ دو لاشوں کے اوپر سے گزر جائے۔
انہوں نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں تو سامنے ان کا بچپن آ گیا۔ وہ دور جب کوئی بھی امیر کا بچہ غلط کرے تو استاد اس کے کان بھی کھینچ لیتا تھا۔ مجسٹریٹ عدالت میں امیر اور غریب کو ایک ہی کرسی پر بٹھاتا تھا۔ کسی حادثے کی خبر مہینوں یاد رہتی تھی۔ لوگ دل سے تکلیف محسوس کرتے تھے۔ مگر آج؟ آج تو لوگ قتل کی ویڈیوز دیکھ کر ہائے افسوس کہہ کر اسکرول کر دیتے ہیں۔
بندن میاں سوچ رہے تھے کہ ہمارے زمانے میں سیب کھو جانے پر تو بچے ڈر جاتے تھے۔ والدین شرمندہ ہوتے تھے۔ لیکن آج جج کے دو سیب گم ہوں تو پوری پولیس بھاگتی پھرتی ہے۔ جیسے یہ ریاست انہی سیبوں پر چل رہی ہو۔ جیسے ان دو سیبوں کی حفاظت کرنا قومی سلامتی کا حصہ ہو۔
بندن میاں نے خود کو سمجھایا مگر دل نہ مانا۔ دل تو اسی بات پر اٹکا رہا کہ آخر یہ کیسا وطن ہے جہاں جان بے قیمت اور پھل قیمتی ہیں؟ جہاں بے گناہوں کے قاتل محفوظ اور مظلوم غیر محفوظ؟ جہاں ریاست بچوں کی جان نہیں بچا سکتی مگر سیب ڈھونڈنے کی پوری سکرپٹ لکھ سکتی ہے؟
بندن میاں نے موبائل دوبارہ کھولا اور پوسٹ کے نیچے تبصروں کو دیکھا۔ کچھ لوگ انصاف کی بات کر رہے تھے، کچھ سیاسی بحث میں پڑے تھے کچھ کہہ رہے تھے کہ حادثہ تھا لڑکا معصوم تھا کچھ کہہ رہے تھے کہ سیب چوری پر بھی قانون حرکت میں آ سکتا ہے یہ اچھی بات ہے بندن میاں کا دل اس ہجوم کے جہل پر مزید بھاری ہو گیا۔ انہوں نے سوچا واہ رے عوام جب ظلم تم پر ہوتا ہے تو چیخ چیخ کر کہتے ہو ریاست کہاں ہے؟ مگر جب کسی غریب پر ہوتا ہے تو ریاست کی بے حسی کو جواز دینے لگتے ہو۔
بندن میاں نے ایک جملہ اپنے دل سے اٹھ کر لکھا یہ صرف دو بچیوں کا قتل نہیں تھا، یہ پوری قوم کے ضمیر کا قتل تھا۔
بندن میاں نے بڑے دکھ سے سوچا کہ ہم لوگ ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔ اور جب قوم خاموش رہتی ہے تو ظالم مضبوط ہوتا ہے۔ ہم نے ظالم کو طاقتور خود بنایا ہے۔ ہم ہی نے اسے یہ یقین دیا ہے کہ یہاں سب کچھ بک جاتا ہے جان بھی قانون بھی، انصاف بھی، اور اگر پھر بھی کچھ کم پڑ جائے تو دو سیب کی کہانی بھی کافی ہوتی ہے۔
وقت گزرتا رہا، چائے ٹھنڈی ہوتی رہی اور بندن میاں کی سوچیں گرم۔ انہوں نے لکھا آج اس ملک کا ضمیر مر چکا ہے۔ اس کا جنازہ بھی شاید کہیں خاموشی سے دفن ہو چکا ہے۔ اب تو شاید قبر بھی رشوت مانگتی ہو۔
آخر میں بندن میاں نے سر جھکا کر وہ جملہ لکھا جو ان کے دل کا نوحہ تھا۔ اللہ اس ملک پر رحم کرے، کیونکہ جن کے ہاتھ میں اس کی باگ ہے، وہ نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں، نہ سمجھ سکتے ہیں۔ اور ہم ، ہم سب تماشائی ہیں۔





