پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں رفح کراسنگ کو یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو مصر منتقل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
مشترکہ بیان میں صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی ہر کوشش کی سخت مخالفت، اور رفح کراسنگ دونوں طرف سے کھلی رکھنے پر زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے غزہ کے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
بیان میں خطے میں امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے غزہ میں مکمل جنگ بندی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے فوری آغاز پر اتفاق کیا اور فلسطینی اتھارٹی کو ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے پر زور دیا۔
مزید برآں، مسلم ممالک نے امریکا سمیت تمام علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا اور 1967 کی سرحدوں کے تحت آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی توثیق کی۔





