کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا ہے کہ دنیا میں بہت سی باتوں کی تردید ممکن ہے، مگر حقائق سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کا جاننا ہی نہیں بلکہ درست تاریخ سے آگاہ ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہی فرد اور معاشرے کی شناخت، ثقافت اور فکری بنیادوں کا تعین کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہم سب کی ضرورت ہے، کیونکہ ہماری شناخت اسی سرزمین سے وابستہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اچھی حکمرانی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا اور اداروں کی مضبوطی کے بغیر پاکستان مضبوط نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اداروں کو مستحکم کریں تاکہ ملک کی بنیادیں مزید مضبوط ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہو ں نے گزشتہ روز جامعہ کراچی اور گیلپ پاکستان کے اشتراک سے آڈیوویژل سینٹر جامعہ کراچی میں منعقدہ تین روزہ ورکشاپ بعنوان: ”پاکستان اسٹڈیز ریفریشر کورس اور ورکشاپ: تعلیم کے لیے نقط نظر کی ترقی میں اضافہ” کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے قیام کی ایک بڑی وجہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اقلیتوں کے حقوق، مساوات، انصاف اور آزادیِ اظہار کے اصولوں پر ہمیشہ واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ نہ مستقل دوست ہوتے ہیں، نہ مستقل دشمن، صرف ایک چیز مستقل رہتی ہے، اور وہ ہے قومی مفاد۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کے تحت ہمیں ہمت اور عزم کے ساتھ ان بنیادی اقدار کو فروغ دینا ہوگا جن کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا۔ چیئرمین گیلپ پاکستان ڈاکٹر اعجاز شفیع جیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال، تمام نشیب و فراز کے باوجود، 80 سالہ قومی سفر کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر صبح تقریباً پانچ کروڑ بچے اپنے گھروں سے نکل کر اسکولوں کا رُخ کرتے ہیں، جو دنیا کے چند ہی ممالک کا حاصل کردہ اعزاز ہے۔ ان بچوں میں سے ہر وہ طالبعلم جو چھٹی جماعت سے آگے ہے، مطالعہ پاکستان لازمی مضمون کے طور پر پڑھتا ہے۔ ڈاکٹر جیلانی کے مطابق بچے ابتدا ہی سے نظموں، قومی ترانوں، پرچم، اساتذہ کی گفتگو اور اسکول اسمبلی کے ذریعے پاکستان کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرتے ہیں، لیکن اصل ذمہ داری اُن اساتذہ پر عائد ہوتی ہے جو خصوصی طور پر اس مضمون کی تدریس پر مامور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اساتذہ برصغیر میں مسلم اکثریتی ریاست کے طویل جدوجہد پر مبنی تاریخی تناظر کو پوری طرح سمجھ لیں تو وہ پانچ کروڑ بچوں کے مستقبل کی تربیت میں بے حد موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس تقریب میں سیکنڈری اسکولوں کے پاکستان اسٹڈیز کے اساتذہ کیساتھ ساتھ کالجوں اور جامعات کے اساتذہ بھی شریک ہیں۔ پاکستان کی تاریخ پڑھانا صرف معلومات کی فراہمی نہیں، بلکہ تربیت کا عمل ہے۔ ڈاکٹر جیلانی نے اس بات پر زور دیا کہ جب اساتذہ پاکستان، اسلام یا دیگر مذاہب سے متعلق پہلو پڑھاتے ہیں تو وہ محض نصابی ذمہ داری پوری نہیں کرتے بلکہ بچوں کی شخصیت اور زندگی سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ ہزار سالہ تاریخی تسلسل کی درست تفہیم پاکستان کے نظریے، سیاست اور سماجی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق وہی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جو اپنی تاریخ کو صحیح تناظر میں دیکھتے ہوئے مستقبل کی حکمتِ عملی مرتب کرتی ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے شرکاء کو تحقیق، تدریس اور تعلیمی ترقی کے حوالے سے تاریخی شعور کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جامعہ کراچی کے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے چیئرمین، پروفیسر ڈاکٹر سید شبیب الحسن نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں پاکستان کے بارے میں گہرائی سے جاننے اور سمجھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ دنیا کی تمام ترقی یافتہ قوموں کی ترقی میں انکی مادری زبان نے بنیادی کردار ادا کیا ہے، جبکہ ہمارے معاشرے میں انگریزی کو کامیابی کی ناگزیر شرط سمجھ لیا گیا ہے، جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ترقی کرنے والی قوموں نے اپنی زبان کو کبھی ترک نہیں کیا۔ انکی تحقیق، تربیت اور تعلیمی مواد میں انکی مادری زبان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس نے انہیں مضبوط فکری اور سائنسی بنیادیں فراہم کیں۔ پروفیسر ڈاکٹر شبیب الحسن کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں مادری زبان کو وہ اہمیت اور فروغ نہیں دیا گیا جسکی اسے ضرورت تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی ترقی اور فکری خود مختاری کیلئے مادری زبان کو عملی سطح پر فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ورکشاپ میں جامعہ کراچی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، وفاقی اردو یونیورسٹی، داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی، بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری اور الکوثر یونیورسٹی کے اساتذہ نے شرکت کی۔





