جہلم (محمد زاہد خورشید ) ہم سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر عراقی سرزمین سے ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں اور اس کے پسِ پردہ کارفرما عناصر کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،ان خیالات کا اظہار جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم،قائد تحفظ حرمین شریفین موومنٹ پاکستان اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر حافظ عبدالحمید عامر نے اپنے ایک بیان میں کیا، انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی قیمتی اور اہم ترین آئل ریفائنری پر عراقی سرزمین سے بزدلانہ حملہ کیا گیا، جس کی ذمہ داری حوثی باغیوں کی طرف سے قبول کی گئی۔ تاہم، جدید دور کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے ایسے سستے جھوٹ پر پردہ ڈالنا پسِ پردہ دشمن کی کم عقلی کا بین ثبوت ہے۔عرب اور پاکستانی میڈیا نے واضح طور پر رپورٹ کیا ہے کہ یہ ڈرون عراقی سرزمین سے آئے تھے اور سعودی عرب نے اس کا جوابی اور منہ توڑ جواب دیا۔ ہم سعودی عرب کے جوابی حملہ پر اس کے دفاعی حق کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ مزید انہوں نے کہا کہ اس حملے سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ سعودی عرب نے اب تک نہایت صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزشتہ ایرانی حملوں کو اس آڑ میں برداشت کیا تھا کہ وہ امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کر رہے تھے۔ حالانکہ پوری دنیا نے دیکھا کہ وہ حملے محض امریکی اڈوں پر نہیں تھے، بلکہ سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کمپنی ’ آرامکو ‘ اور دیگر اہم مقامات پر کیے گئے تھے۔ دراصل ان حملوں کے پسِ پردہ دشمن کی ناپاک کوشش بھی یہی ہے کہ سعودی عرب کو اس جنگ میں پوری طرح دھکیلا جائے اور موجودہ حالات گواہی دے رہے ہیں کہ سعودی عرب اب مزید خاموش نہیں رہے گا بلکہ ان حملوں کا دندان شکن جواب دے گا۔ یہ سوال خاصا اہم ہے کہ واضح دشمن ایران، سعودی عرب کو جنگ میں کیوں دھکیلنا چاہتا ہے؟ دشمن کے یہ خطرناک عزائم مکمل مذہبی پس منظر رکھتے ہیں، لیکن وہ اپنے ان ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں دوٹوک انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ارضِ حرمین شریفین کا دفاع ہر کلمہ گو مسلمان کا دینی و ایمانی فریضہ ہے اور حکومتِ پاکستان کا تاریخی دفاعی معاہدہ اسی فولادی عزم اور اخوت اسلامی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب محض دو ملک نہیں، بلکہ یک جان دو قالب ہیں، جنہوں نے ہمیشہ ہر مشکل اور کڑے وقت میں ایک دوسرے کا بازو بن کر اسلامی بھائی چارے کا ثبوت دیا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا وہ سچا اور آزمودہ دوست ہے جس کا احسان ہر پاکستانی کے دل پر نقش ہے۔آج کی تازہ ترین خبر اس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کا تین ارب ڈالر کا قرض تین سال کے رول اوور کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آج اگر ارضِ حرمین کی پاک دھرتی کو اندرونی یا بیرونی دشمنوں سے کوئی بھی خطرہ لاحق ہوا، تو پاکستان کا بچہ بچہ سعودی افواج کے شانہ بشانہ فرنٹ لائن پر کھڑا ہوگا۔ ہم حرمین شریفین کے تحفظ کو اپنے ایمان کا جزو لا ینفک سمجھتے ہیں اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پاکستانی عوام کا دل ارضِ حرمین شریفین کی محبت میں دھڑکتا ہے اور ہم ہر جغرافیائی، سیاسی اور عسکری محاذ پر سعودی عرب کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔





