آج کے دور میں موبائل نے زندگی بدل دی ہے، لیکن اسی موبائل نے دھوکے اور فراڈ کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔ روزانہ سینکڑوں لوگ جعلی میسجز اور کالز کا شکار ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ فراڈ کرنے والے اتنی چالاکی سے کام کرتے ہیں کہ عام انسان لمحوں میں یقین کر لیتا ہے۔
میری زندگی میں بھی ایک ایسا ہی دن آیا ایک صبح مجھے ایک صاحب کی کال آئی کہ:
“آپ کے اکاؤنٹ میں ہماری رقم غلطی سے آ گئی ہے آپکو میسج بھی شو ہو رہا ہوگا، پلیز رقم واپس سینڈ کر دیں۔”
کال کرنے والا قدرے ماہر تھا ، آواز میں ایسی جلدی اور ہڑبڑاہٹ کہ ایک لمحے کو شک بھی نہ ہوا۔۔۔۔
میں نے فوراً سکرین دیکھی تو پیسے وصول ہونے کا فیک میسج موجود تھا تھا۔ میں نے جلدی میں پیسے بھیج دیے۔
پھر دوبارہ کہا گیا کہ رقم نہیں پہنچی آپ مائی اپروول سے کلک کریں، میں نے کلک کیا اور دیکھتے دیکھتے لگ بھگ پچاس ہزار روپے میرے ہاتھوں سے نکل گئے۔
ایسے لگا جیسے ساری دنیا رک گئی ہو
اس لمحے دل بھر آیا، کہنے کو تو روپیہ ہی تھا لیکن میری محنت، میری سادگی کا مزاق بنا کر مجھ سے چھین لیا گیا۔ دکھ، کے ساتھ بے بسی۔۔۔۔ اور دل میں صرف ایک ہی بات:
"یا اللہ یہ میں نے کیا کر دیا…؟”
سب نے کہا:
“بس… اب نہیں ملیں گے۔ فراڈ کے پیسے کبھی واپس نہیں آتے.”
یہ جملہ چاقو کی طرح لگتا تھا،
لیکن میں نے پھر بھی ہمت کرتے ہوئے
ایزی پیسہ کو کال کی، سب کچھ بتایا، نمبر شیئر کیے، پھر ایف آئی اے میں رپورٹ کی۔
اور پھر… دن گزرتے گئے ایک ، دو ، تین۔۔۔۔
نہ کوئی کال آئی، نہ کوئی نوٹیفکیشن، کچھ بھی نہیں۔
پھر کچھ دن بعد یونہی میں نے ایپ کھولی ، دیکھا تو میرے پچاس ہزار روپے ایزی پیسہ کے نمبر سے واپس آ چکے تھے۔
ایسا لگا جیسے آنکھوں پر یقین نہ رہے۔
اللہ نے وہ پیسے لوٹا دیے… بغیر کسی اطلاع، بغیر کسی نوٹیفکیشن کے…
جیسے رب کہہ رہا ہو:
"میرے بندے! تو نے کوشش کی تھی… اب دیکھ میرا فضل!”
جانے کس کی دعا کام آ گئی, وہ لمحہ زندگی بہت سکون اور خوشی کا تھا،
یہ واقعہ مجھے تو سبق دے گیا، لیکن میں چاہتی ہوں کہ آپ تک بھی یہ پیغام پہنچے کہ:
ہر میسج سچ نہیں ہوتا
ہر کال اعتماد کے قابل نہیں ہوتی
ہر آواز کے پیچھے انسان ہی نہیں ، دھوکے باز بھی ہو سکتا ہے
کسی بھی میسج یا کال پر فوراً یقین نہ کریں۔
ایزی پیسہ، بینک، ایف آئی اے—سب کے پاس شکایت کے طریقے موجود ہیں۔
اگر نقصان ہو جائے تو خاموش بیٹھنے کے بجائے فوراً ہیلپ لائن پہ رابطہ کریں۔
اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں کو، اور اپنے بچوں کو اس دھوکے باز دور سے بچائیں… کیونکہ ایک غلط کلک، ایک غلط میسج، نقصان کی وجہ بن سکتا ہے۔





