ڈنگہ (احتشام اللہ اسلم) مین بازار ڈنگہ میں بدترین ٹریفک نے آدھے شہر کے 10 محلوں کے لوگوں اور پھالیہ روڈ‘ پاہڑیانوالی روڈ پر جانے والوں کے لئے پیدل چلنا بھی نا ممکن ہو گیا ہے۔ سارا بازار ریڑھی مافیا‘ رکشہ مافیا کے قبضے میں آ گیا۔ بلدیہ رکشہ اسٹینڈ فیس وصول کر کے ان کو بازار کے اندر قدم قدم پر غیر قانونی رکشہ اسٹینڈ بنانے سے روکنے سے معذور۔ دکانداروں نے دونوں اطراف غیر قانونی موٹر سائیکل پارکنگ کر کے 44 فٹ چوڑے مین بازار کو 6 فٹ کی تنگ گلی بنا دیا۔ ڈپٹی کمشنر گجرات نور العین قریشی‘ اے سی کھاریاں احمد شیر گوندل‘ ڈی ایس پی ٹریفک گجرات‘ پیرا فورس گجرات نے ڈنگہ کو ضلع گجرات کے بجائے کسی اور ضلع کا شہر سمجھ کر توجہ ختم کر دی۔ تمام ضلعی انتظامیہ صرف گجرات شہر میں اور تمام تحصیل انتظامیہ صرف کھاریاں شہر تک محدود۔ فوٹو سیشن میں سموگ کے خلاف اجلاس کی تصاویر اور ٹریفک بلاک کی تصاویر بنا کر وزیر اعلیٰ کو کھلا دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ نہ کبھی ڈپٹی کمشنر گجرات اور نہ اے سی کھاریاں نے پیدل چل کر مین بازار ڈنگہ کی بد ترین صورت حال کا جائزہ لیا نہ کبھی کوئی سرکاری آفیسر نے آ کر شہریوں کی بدحالی کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب جو بھی قانون بناتی ہیں وہ ڈنگہ میں کبھی قابل عمل نہیں سمجھا جاتا۔ نہ پرائس مجسٹریٹ آتے ہیں نہ کبھی پیرا فورس کی خاتون ڈائریکٹر ڈنگہ شہر میں آنے کی زحمت کرتی ہیں۔ لوگوں کے لئے ڈیڑھ کلو میٹر طویل بازار میں سے گزرنا اور سانس لینا بھی محال ہو گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ تمام افسران اور سیاسی قائدین نے ڈنگہ کو اللہ کے حوالے کر دیا ہے۔





