اسرائیلی فوج کی جانب سے قبضے میں لی گئی اٹلی سے روانہ ہوکر غزہ جانے والی امدادی کشتی ‘حنظلہ’ پر سوار فلسطینی امریکی کارکن اور وکیل ہو يدا عراف نے اسرائیلی فوج کو خبردار کیا تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے اسرائیلی فوج سے کہاکہ ہماری کشتی سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں، یہ ایک سویلین کشتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہو يدا عراف نے کہا کہ شہریوں کو بھوکا مارنے کےلیے جان بوجھ کر کی گئی کوئی بھی ناکہ بندی عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ یہ جنگی جرم بھی ہے۔ امریکی وکیل نے مزید کہا کہ اسرائیلی بحریہ تمہارے پاس غیر قانونی ناکہ بندی کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے، ہم صرف انسانی امداد لے کر جاتے ہیں، ہماری کشتی کو روکنے یا اس پر حملہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ، ہم ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔واضح رہے کہ کشتی کے منتظمین کی جانب سے چلائی جانے والی لائیو ویڈیو میں اسرائیلی فوجیوں کو زبردستی کشتی پر چڑھتے دیکھا گیا جس کے کچھ دیر بعد براہ راست نشریات بند ہوگئیں۔اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے کشتی پر قبضے سے کچھ دیر قبل کشتی پر سوار ایک خاتون رکن اِما فوریو (Emma Fourreau) نے اپنی ایکس پوسٹ میں لکھا تھا کہ ‘اسرائیلی فوج پہنچ گئی ہے، ہم اپنے فون سمندر میں پھینک رہے ہیں، غزہ میں قتل عام بند کرو’۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی میڈلین نامی امدادی کشتی غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر روانہ ہوئی تھی تاہم اسرائیلی فوج نے غزہ سے تقریبا 200 کلو میٹر کی دوری پر اس کشتی کا راستہ روک کر اسے واپس بھیج دیا تھا۔





