نومبر 3, 2026

مصنوعی دودھ بچے کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے:صفدر ورک

گجرات(نمائندہ خصوصی) ڈپٹی کمشنر صفدر حسین ورک نے محکمہ صحت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 26 سے 31 اگست تک ”ماں کے دودھ کی افادیت“ کے حوالے سے خصوصی ہفتہ منایا جائے گا۔ اس مہم کا مقصد ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور مصنوعی دودھ کے نقصانات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے ایک مکمل غذا ہے جو نہ صرف اسے ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے بلکہ اس کی قوت مدافعت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس مصنوعی دودھ بچے کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ مہم کے دوران لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزرز مختلف علاقوں میں لوگوں کو ماں کے دودھ کی افادیت سے آگاہ کریں گے۔ اس کے علاوہ، نیوٹریشن سپروائزرز کمیٹی ممبران کے ساتھ مل کر لوگو! کو اس حوالے سے معلومات فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنے گھر کی خواتین کو اس کے فوائد سے آگاہ کر سکیں۔مزید برآں، علمائے کرام اپنے خطبات میں ماں کے دودھ کی اہمیت کو بیان کریں گے جبکہ کالجز کے اساتذہ اور محکمہ صحت کا عملہ خواتین کالجز میں بریسٹ فیڈنگ کے موضوع پر لیکچرز دیں گے۔ ڈپٹی کمشنر صفدر حسین ورک نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ سپروائزر اور لیڈی ہیلتھ ورکرز خواتین کے ساتھ سیمینار منعقد کریں گی تاکہ ماں کے دودھ کے فوائد پر روشنی ڈالی جا سکے۔رواں ہفتہ کے دوران حاملہ خواتین کی سکریننگ کی جائے گی اور غذائی کمی کا شکار بچوں میں وٹامنز کے ساشے تقسیم کیے جائیں گے۔ ضلعی ہیلتھ اتھارٹی کے تحت تمام ہسپتالوں میں کاونٹر قائم کیے جائیں گے جہاں حاملہ خواتین اور بچوں کی سکریننگ کی جائے گی۔ کنسلٹنٹ ڈاکٹرز خواتین کا معائنہ کریں گی اور چھاتی کے امراض میں مبتلا خواتین کا مفت علاج کیا جائے گا۔