ستمبر 11, 2026

سابقہ ممبران اسمبلی نے ترقیاتی کاموں کے دعوے کئے‘ موجودہ کی روش بھی رہی ہے:ڈاکٹر طارق سلیم

گجرات(نمائندہ خصوصی)اسلامک سنٹر گجرات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا ہے کہ گجرات شہر میں ایک بارش ہو تو تمام نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور گجرات کے لوگوں کے گھروں کے باہر، سڑکوں، گلیوں سے ہفتہ بھر پانی نہیں نکلتا اور بارش کا پانی فٹوں کے حساب سے کھڑا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کو میں راولپنڈی سے واپس آرہا تھا تو جیل چوک کے اندر میں نے ایک چار پائی دیکھی اور اس پر پتھر رکھے ہوئے تھے۔ میں نے جب چارپائی کی فوٹو بنائی تو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے دوست نے مجھے کہا کہ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے اسے کہا کہ یہ تابوت ہے جو جیل چوک پر پڑا ہے اور یہ کسی کرپشن کی علامت کے طور پر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنے وسائل سابق وزیرا علیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے گجرات بھیجے جب چوہدری شفاعت حسین ضلع ناظم تھے تو میں سمجھتا ہوں کہ ان فنڈز سے پورا گجرات آباد ہو سکتا تھا۔اس موقع پر چوہدری انصر دھول ایڈووکیٹ امیر جماعت اسلامی ضلع گجرات، محسن اقبال، عمران انور، حاجی اسلم جاوید بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا کہ حاجی ناصر محمود نے ترقیاتی کاموں کے دعوے کئے۔ چوہدری سلیم سرور جوڑا نے بھی دعوے کئے۔ ہم چوہدری پرویز الٰہی، حاجی ناصر محمود، چوہدری سلیم سرور جوڑااور میاں عمران مسعود کے دعووں کو بھی مانتے ہیں کہ وہ کروڑوں فنڈز گجرات میں لائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نظر میں پیپلز پارٹی بھی مجرم ہے، (ق) لیگ بھی مجرم ہے۔ پی ٹی آئی بھی مجرم ہے کہ یہ اقتدار میں رہے۔ اس شہر میں وزیراعظم، وزیر اعلیٰ،سابق وفاقی وزراء رہے ہیں۔ بارش باران رحمت ہوتی ہے مگر گجرات کے لوگوں کے لئے حکمرانوں کی کرپشن، بد اعمال کی وجہ سے زحمت بن جاتی ہے۔ اس وقت جو گجرات کے نمائندے جو کہ فارم 47 کی پیداوار ہیں دونوں وزیر ہیں اور گجرات کے عوام سے لا تعلق ہیں۔ ان کاخیال ہے کہ وہ گجرا ت کے عوام کے ووٹوں سے بنے ہیں۔ گجرات کے عوام جب گھروں سے باہر نکلتے ہیں اور مساجد میں جاتے ہیں تو وہ گندے پانی سے گزر کر جاتے ہیں۔ آج کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حکمرانوں نے جب اپنے لوگ آگے کئے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، نہ ان کے پاس اختیارات ہیں۔ انتظامیہ اپنے طور پر جتنی کوشش کر سکتی ہے وہ کر رہی ہے۔ ہم انتظامیہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے ذمے دار سب سیاسی آستانے ہیں جنہوں نے گجرات کو پیرس بنانے کا دعویٰ کیا۔ پیرس کے دعویداروں نے گجرت کو وینس کی شکل دے دی ہے۔ یہاں پر اتنے گڑھے موجود ہیں، پانی کی نکاسی نہیں ہے۔ گجرات کا واحد انڈسٹری ایریا بھی اس کا شکار ہے۔ عوام نہ تو کسی مسجد میں جا سکتے ہیں، بچے تعلیمی اداروں میں نہیں جا سکتے۔