نومبر 3, 2026

جہلم کے مضافاتی علاقوں میں ”مٹی سے بنے گھڑوں“کا استعمال آج بھی ٹھنڈے اور صاف پانی کا ایک اہم اور سستا ذریعہ

جہلم(چوہدری دانیال عابد)جہلم کے مضافاتی علاقوں میں مٹی سے بنے گھڑوں کا استعمال آج بھی تواتر کے ساتھ جاری جو کہ ٹھنڈے اور صاف پانی کا ایک اہم اور سستا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی شہری مضافاتی علاقوں سے مٹی کے بنے گھڑے خرید کر استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہر خاص و عام تک الیکٹرونکس مصنوعات تک رسائی کافی حد تک ممکن ہے لیکن وہیں آج بھی پینے کے صاف اور ٹھنڈے پانی کیلئے مٹی سے بنے مٹکوں کا استعمال کیا جاتا ہے، ٹھنڈے پانی کے حصول کے لیے الیکٹرک مشینیں اور فریزر کا استعمال بھی اپنی جگہ صحیح لیکن شہر میں دریا کنارے اور دیہات جہاں پر آج بھی بجلی کی رسائی مشکل ہے وہاں کے لوگ پینے کے پانی کے لیے مٹی کے مٹکوں کا استعمال عام طور پر کرتے ہیں کیونکہ پینے کے صاف پانی کیلیے ایک اہم اورسستا ترین ذریعہ ہے مضافاتی علاقوں میں رہائش پذیر کمہاروں کے خاندان آج بھی مٹی کے مٹکے بنانے میں مشہور ہیں اور انکے بنائے ہوئے خوبصورت مٹکے دور دراز شہروں جہلم، چکوال، راولپنڈی، خوشاب سمیت دیگر شہروں میں بھی فروخت کے لیے بھیجے جاتے ہیں مٹی کے مٹکوں کا استعمال دم توڑتی ہوئی پنجابی ثقافت کو آج بھی زندہ رکھے ہو ئے ہے۔