اپریل 18, 2026

ٹانڈہ کا تاج محل

تحریر: مرزا محمد آصف صغیر ٹانڈہ

ایک تاج محل شاجہان نے اپنی بیوی کی یاد میں آگرا میں بنوایا تھا ۔۔ پر ایک تاج محل سنت بابا پریم سنگھ نے ٹانڈہ میں ہر عاص و عام ۔ ہر مذہب کیلئے بنوایا جس میں جو بھی داخل ہوا کچھ نہ کچھ حاصل کر کے ہی باہر نکلا ۔۔ میں بات کر رہا ہون گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول ٹانڈہ ضلع گجرات کی بے شک اس عظیم الشان قلعہ نما تعلیمی عمارت کو میرا تاج محل کا نام دینا سو فیصد درست ہو گا
سکھ مذہب کے روخانی پیشوا سنت بابا پریم سنگھ جن کا تعلق ضلع گجرات کے گاؤں کھوڑی سے تھا جب انہیں نے محسوس کیا کے گجرات شہر کے علاؤہ دور دور تک کوئی بھی ہائی سکول نہیں


ٹانڈہ جو اسوقت کافی بڑا سکھ اکثریتی قصبہ تھا وہاں سکول بنانے کا فیصلہ کیا گیا جب بابا پریم سنگھ نے ٹانڈہ ضلع گجرات میں ہائی سکول کھولنے کی تجویز بتائی تو سب نے خیر مقدم کیا اور ہر طرح کی مالی و اخلاقی مدد کرنے کا وعدہ کیا بابا پریم سنگھ نے برطانیہ گورنمنٹ منظوری لیکر سکول کا نقشہ تیار کروایا (نچے آپکو سکول کی پکچرز کے ساتھ ساتھ سکول کے نقشہ کی پکچر بھی دیکھنے کو ملے گی) گورنمنٹ نے سکول کی منظوری تو دے دی پر ایک روپیہ بھی فنڈ نہ منظور کیا اب ساری عمارت لوگوں کے تعاون اور ڈونیٹ سے ہی بننی تھی جس کیلئے بابا پریم سنگھ نے مہم شروع کر دی اور ہر آدمی پر زور دیا کے اپنی حیثیت کے مطابق سکول کیلئے رقم ڈونیٹ کریں اور ساتھ یہ بھی اعلان کیا کے جو بندا 250 روپے کا اس سے زیادہ رقم ڈونیٹ کرے گا اس کے نام کا سکول میں یادگاری پتھر لگایا جائے گا جو آج بھی سکول کی دیواروں میں بہت سے لگے ہوئے ہیں گوجرنوالہ ۔ شیخوپورہ ۔لائل پور ۔ ملتان ۔ سیالکوٹ ۔ جموں اضلاع سے لبانہ سکھ برادری سے چندہ اکھٹا کیا گیا جو انہونے خوشی خوشی دیا اس کے علاؤہ ٹانڈہ ۔ قلعہ ۔ کھوڑی ۔ پکھیروالی ۔ بزرگ وال ۔ کو آنکھ ۔بڈھن دیگر جہاں جہاں لبانہ سکھ بھائی چارہ آباد تھا ان نے رقمیں اکٹھی کر بابا پریم سنگھ جی کو پیش کر دی اس کے علاؤہ سکھ عورتوں نے اپنے زیور تک اوتار کے دے دیئے
سکول کی بنیادیں کھودنے کیلئے ٹانڈہ اور گردونواح سے لوگ جوک در جوک آنے لگے ٹانڈہ سکول کے تھوڑے فاصلے پر اینٹوں کا بھٹہ تیار کیا گیا سکول کے احاطہ میں پانی کی ضرورت پورے کرنے کیلئے ایک بڑا کنواں کھودا گیا ۔ لوگوں نے لکڑیاں اکٹھی کرنی شروع کر دی ۔ اس زمانہ میں سیمنٹ ہر جگہ دستیاب نہ ہوتا تھا سارا کام مٹی اور چونا کیری وغیرہ سے ہی ہونا تھا سکھ عورتوں نے چونے کے روڑ اکھٹے کرنے شروع کر دیئے ۔ سیالکوٹ ضلع سے مستری اور راج منگوائے گے جنکو اجرت دی جاتی تھی ۔ باقی سب لوگ فی سبیل اللہ کام کرتے تھے سکول کے احاطہ میں ایک بڑا لنگر خانہ چالو کر دیا گیا تاکہ کام کرنے والوں کو مفت کھانا دیا جا سکے سکول کی بنیادوں کا کام شروع ہو گیا سارا کام بغیر کسی مشنری کے ہو رہا تھا ایک طرف H شیپ کی کئی کمروں و بڑے ہال والی اونچی عمارت کا کام ہو رہا تھا دوسری طرف قلعہ نما بوڈنگ ہاؤس کی کئی کمروں والی بلڈنگ تیار ہو رہی تھی 2 سال کے اندر اندر سکول کی مکمل بلڈنگ تیار ہو گئی اور اس طرح 1921 کو متحدہ ہندوستان کا پہلا لبانہ ہائی سکول چالو ہو گیا پہلے فیصلہ کیا گیا کے فوراً کلاس بٹھا لی جائیں پر بعد میں پروگرام بدل گیا کیونکہ دسمبر میں گورو گوبند سنگھ جی کا یوم پیدائش تھا اس لیے کچھ دن کلاسیں سردار مان سنگھ مٹھون کی حویلی میں پڑھائیں گئں سکول کا نام سکھوں کے آخری گورو ۔ گورو گوبند سنگھ جی کے نام سے رکھا گیا اور آگے بابا پریم سنگھ اور سکھوں کی برادری (لبانہ) کا نام جوڑا گیا ۔ گورو گوبند سنگھ خالصہ لبانہ ہائی سکول ٹانڈہ رکھا گیا قابل پڑھے لکھے تجربہ کار ہر مذہب کے ٹیچرز اکھٹے کئے گئے اور ہر مذہب کے بچوں کو سکول میں ویلکم کیا گیا سکول کی عمارت پر ٹوٹل خرچہ 1لاکھ 40 ہزار روپے آیا اتنی بڑی عمارتوں پر اتنا خرچ صرف لوگوں کے مفت کام کرنے کا نتجہ تھا اسوقت جو بھی سکھ فوج یا دوجے محکموں میں ملازم تھے سب نے اپنی ایک دن کی تنحوا ڈونیٹ کی سب سے زیادہ رقم محلہ گڑھی ٹانڈہ کے ایک سکھ کپٹن مہنگا سنگھ نے 350 روپے دئیے جبکہ اسوقت کپٹن کی تنخوا 30 روپے کے قریب ہوتی تھی شروع شروع میں ہر سال سکول میں ایک دعا کا پروگرام ہوتا جس میں لوگ دور دور سے آتے اور دل کھول کر چندہ دیتے بابا پریم سنگھ کو لوگ مرشد کی طرح مانتے تھے اسوقت جو کام کورٹ نہ کر سکتی تھی بابا جی کے صرف ایک بار کہنے پر ہو جاتا سکول بڑا خوش اسلوبی سے چل رہا تھا بابا پریم سنگھ جی کا ارادہ اس سکول کو کالج بنانے کا تھا پر افسوس تقسیم کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا اس سکول کا رزلٹ ہر سال 90/95 فیصدی سے کم نے ہوتا تھا ٹیچر بچوں کو رات کے وقت گھروں سے بلاوا کر محنت کرواتے سکول کی ٹاک ٹیم ہر سال لاہور اور امرتسر کھیلنے جاتی تھیں سکول میں ہاکی فٹ بال کبڈی والی بال اور کھیل کے پروگرام منعقد ہوا کرتے تھے ۔ غریب اور یتیم بچوں کی فیس بلکل معاف تھی جہاں کافی غریب بچے تعلیم حاصل کرتے تھے اسوقت بورڈنگ ہاؤس میں تقریباً 150 کے قریب دور دور سے آئے ہوئے (گوجرنوالہ ۔ شیخوپورہ ۔ملتان اور دیگر اضلاع سے آئے ہوئے بچے رہتے تھے) مین گیٹ کے اوپر ایک گوردوارہ ہوتا تھا گوردوارہ کی بلڈنگ کے مکمل اخراجات ڈاکٹر فوجا سنگھ آف بزرگوال نے ادا کئے اور گوردوارہ کا سنگ بنیاد بھی ڈاکٹر فوجا سنگھ جی نے رکھا جہاں سکھ بچوں کو دینی تعلیم دی جاتی تھی افسوس اب وہ گوردوارہ والا کمرہ ختم ہو چکا ہے ۔ جو سٹوڈنٹ غیر حاضری کرتا اسے سزا کے طور بر دانے لانے کو کہا جاتا بچوں کی خوارک کا خرچہ 2 روپے ماہوار سے زیادہ نہ ہوتا تھا کیونکہ ہفتہ میں 2 بار سکول کے باغچہ سے سبزی آتی تھی بچے گھی وغیرہ گھر سے لے آتے تھے کچھ ٹانڈہ کی سکھ عورتیں کافی ساری لسی اکھٹی کر بورڈنگ کے کچن میں چھوڑ جاتی تاکہ بچے لسی پی سکیں ۔ بورڈنگ میں رہنے والے بچے کھان پین اور فیس ملاکر تقریباً 10 روپے ماہوار آسانی سے گزارہ کر سکتے تھے مسلمان بچوں کیلئے بابا جی نے الگ سے کچن بنوایا ہوا تھا بچوں کو سکول میں بڑے ڈسپلن کے ساتھ رہنا ہوتا تھا سکول کی ایک کمیٹی تھی جس کے صدر سنت بابا پریم سنگھ جی تھے نائب صدر کپٹن جوالہ سنگھ آف مہسم والے تھے ۔
سیکرٹری ڈاکٹر سندر سنگھ آف بزرگوال تھے ڈاکٹر سندر سنگھ کی 1940 میں موت ہو گئی جس کے بعد یہ فرائض چوہدری لکھی سنگھ آف ٹانڈہ نے تقسیم تک ادا کئے جبکہ سکول کے منیجر صوبیدار اندر سنگھ چوپارنیہ آف ٹانڈہ تھے جن کے بعد جمعدار مہان سنگھ منیجر بنےسکول کے پہلے ہیڈ ماسٹر بندرا صاحب وزیر آباد سے لائے گے دوسرے ہیڈ ماسٹر لالہ ٹھاکر داس آف سیالکوٹ تھے تیسرے ہیڈ ماسٹر انوپ سنگھ جی چوتھے ہیڈ ماسٹر نہال سنگھ لبانہ ۔ پانچویں ہیڈماسٹر مسڑ بلونت سنگھ اور چھٹے ہیڈماسٹر مسڑ پرلاد سنگھ تھے آخری ہیڈماسٹر جناب پریم سنگھ آف ٹانڈہ تھے جو تقریباً پندرہ سال تقسیم ہند تک ہیڈ ماسٹر کے فرائض انجام دیتے رہے جنہیں بعد میں بھارتی صدر سے ان کی خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا اس کے علاؤہ متھ کے استاد بابو سردار سنگھ تھے سائینس کے استاد مہر سنگھ تھے مولوی غلام قادر شاہ اردو اور فارسی پڑھاتے تھے جگت سنگھ بی ائے ایل ایل بی سنئیر کلاس ٹیچر تھے گیانی پائی اوتم سنگھ جی مذہبی ٹیچر تھے جو سکھ سٹوڈنٹس کو گورگرنتھ صاحب پڑھایا کرتے تھے اس کے علاؤہ سکول کے استادوں میں لالہ منشی رام ۔ پنڈت دینا ناتھ ۔تولسہ سنگھ لبانہ ۔ ماسڑ دیسا سنگھ آف ٹانڈہ ۔ماسڑ غلام رسول ۔ماسڑ درگاہ سنگھ ۔ ماسڑ جیت سنگھ ۔ماسڑ بسنت سنگھ ۔ماسڑ شیر سنگھ۔ماسڑ ہزارہ سنگھ ۔ ماسڑ دلبیر سنگھ ۔ اور مذہبی استاد جناب مولوی خفیظ اللّٰہ صاحب آف بڑیلہ شریف خدمات انجام دیتے رہے تقسیم ہند 1947 کے بعد تمام سکھوں و ہندوؤں کو ملک چھوڑ جانا پڑھا جس کے بعد سکول ماہ اگست سے لیکر اکتوبر تک بند رہا نومبر 1947 کو ٹانڈا کے نواحی گاؤں موٹا کے ہردلعزیز مذہبی و روحانی شخصیت جناب چوہدری محمد شفیع صاحب (بی ائے بی ٹی ) آف موٹا جو کہ تقسیم سے پہلے جموں اکبر اسلامیہ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ سکول شروع کیا اور لٹے پٹے آئے ہوئے مسلمانوں مہاراجریں کے بچوں کو پڑھنا شروع کیا اور کافی دیر سکول کے اخراجات اپنی زاتی جیب سے ادا کئے اور سکول کے ہاسٹل والے حصہ کو پرائمری سکول کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا اور اس سکول کا نام پاکستان ہائی سکول ٹانڈہ رکھا 1اپریل 1962 کو سکول کا نام ڈی سی ہائی سکول ٹانڈہ رکھا گیا 30 مئ 1970 کو حکومت پنجاب نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا اور اسے گورنمنٹ ہائی سکول ٹانڈہ کا درجہ دیا 1 ستمبر 1986 کو حکومت پنجاب نے اس عظیم الشان تاریخی سکول کو اپ گریڈ کر کے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول ٹانڈہ کا نام دیا

تقسیم ہند کے بعد ہیڈ ماسٹرز
پہلے ہیڈ ماسٹر
1 چوہدری محمد شفیع صاحب آف موٹا
2 منور دین صاحب
3 ملک محمد وارث
4 چوہدری فروز دین
5 ملک محمد رشید
6 خواجہ عبدل واحد
7 مرزا محمد بیگ
8 ملک یوسف کمال
9 چوہدری سردار محمد
10 احسان الحق صاحب
11 پیر حمید عالم سجاد
12 راجہ محمد انور
13 چوہدری میاں خاں
14 مرزا محمد شریف
15 چوہدری محمد عنایت
16 چوہدری غلام سرور
17 چوہدری محتار الحق
1986 کے بعد پرنسپل صاحبان
چوہدری مشتاق احمد
مہر محمد یار
چوہدری محمد عنایت
خالد محمود صاحب
خاجی حبیب اللہ
خاجی ریاض مسعود
سید انفاروزیر
محمد ریاض ہاشمی
چوہدری ناصر محمود
چوہدری ارشاد احمد
الیاس شاہ صاحب
سجاد حسین صاحب
چوہدری ارشاد احمد
محمد یوسف
محمد سجاد بانٹھ
محمد یوسف
چوہدری عطا الہٰی صاحب
محمد سجاد بانٹھ
چوہدری عطا الہٰی
کے بعد محمد اصغر گمھن پرنسپل کے فرائض انجام دیتے رہے اصغر گمھن کے بعد افتخار جاوید شاہین آف موٹا پرنسپل رہے آخر میں اس وقت موجود پرنسپل ایک بار پھر چوہدری عطا الہٰی ہیں
آج تقسیم کے 76 سال بعد بھی فوقتاً فوقتاً امریکہ کینیڈا انڈیا اور دونیا کے محتلف ممالک سے سکھ بھائی چارہ اپنے اس بزرگوں کے بنائے ہوئے سکول کا دورہِ کرتے رہتے ہیں ہم ہر آنے والے کو تہہ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں