اپریل 18, 2026

کیا یورپ والے زیادہ ذہین ہیں ؟

تحریر: راجہ شہزاد احمد (کھاریاں)


پاکستان میں برین ڈرینج ہو رہا ہے ہر سال لاکھوں اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹرز، اساتذہ ، انجینئرز ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ یہی لوگ یورپ کی ترقی میں بھر پور حصہ ڈال رہے ہیں ۔ وہاں کا سسٹم زبردست ترغیبات کے زریعے پوری دنیا کی ذہانت کو اپنے ہاں کھینچ لیتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ذہانت کی قدر نہیں کی جاتی پوری دنیا کی ذہانت یورپ کے ممالک کو ترقی یافتہ بنا گئ ہے جبکہ ہمارے ہاں ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب سے لے کر ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب تک ، سب کے ساتھ کردار کشی اور تحقیر کا سلوک کیا گیا ہے

چٹی چمڑی والے کوئ آسمانی مخلوق نہیں ہیں۔ جرائم اور زنا کا گڑھ ہیں۔ جرائم کے ٹاپ ٹین ممالک میں امریکہ اور یورپ کے لوگ شامل ہیں اور اپنے بیالوجیکل اینوائرمینٹل ایکالوجی کو بچانے اور بیلنس رکھنے کے لیے ایشیا سے تیار شدہ زہین افراد منگوانے کی پالیسی اپنا کر اپنے سسٹم کو بچا رہے ہیں

ذہانت اور ترقی ، تجدید ،ترمیم ، نوجوان زہن کرتا ہے جبکہ یورپ میں ستر سال سے زیادہ عمر کے لوگ ، passive لوگ لاکھوں میں ہیں ان کا معاشرے کی ترقی میں کردار کم ہو رہا ہے

وہاں سسٹم ڈیلیور کرتا ہے ہمارا سسٹم صرف حکمران (طبقہ بدمعاشیہ )کو ڈیلیور کرتا ہے۔

یاد رکھیں ، جینیاتی طور پر، وہ علاقے جہاں زیادہ موسم ہوں، ان کے لوگ زیادہ ذہین ہوتے ہیں پاکستان میں پانچ موسم ہیں۔ گرمی ، سردی ، بہار ، خزاں ، برسات۔

اس وجہ سے یہاں ذہانت زیادہ ہے
یورپ میں ایک ہی موسم یا دو موسم ہوتے ہیں۔ وہ سست دماغ کے لوگ ہیں۔ سردی ، سردی ، سردی ، بارش ، بارش صرف سردی اور بارش ؟؟؟
لیکن ان کا سسٹم ان کے بچوں کی ذہانت کو پالش کرتا ہے ہمارے ہاں ہمارا سسٹم پانچ موسموں کی سوغات کھانے اور مسلسل تغیر دیکھنے والے دماغوں کو بھی زنگ آلود کر۔ د یتا ہے۔ہر سال اولیول اور اے لیول کے امتحانات میں پاکستانی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں
اور ایک منظم منصوبے کے تحت پاکستانیوں کو بری قوم ، ثابت کرنے کے بہت بڑے پیمانے پر جھوٹا پروپیگینڈا بھی جاری ہے جس میں ہماری سیاسی جماعتوں کے لوگ بھی شامل ہیں ۔۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف سسٹم بدل جائے تو پاگستان رہنے کے لیے جنت ہے