نومبر 3, 2026

استاد کے بغیر درس و تدریس ناقص ، دور حاضر ٹیکنالوجی سے بھرپور لیکن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ استاد کا نعم البدل نہیں ہو سکتے؛ فیصل جنجوعہ

لالہ موسیٰ (پ ر) استاد کے بغیر درس و تدریس ناقص ہے۔ دور حاضر ٹیکنالوجی سے بھرپور دور ہے لیکن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ استاد کا نعم البدل نہیں ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ انٹرنیٹ کی مدد سے ہر طرح کی معلومات تو ایک کلک پر میسر ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ یہ معلومات صحیح اور درست بھی ہوں یہ ہمیں معلومات تو دے سکتا ہے مگر صحیح اور غلط کی تمیز نہیں سکھا سکتا، جو استاد ہمیں سکھاتا ہے۔ انٹرنیٹ انسان کو ذہین تو بنا سکتا ہے مگر اس کی تربیت نہیں کرسکتا ہے ان خیالات کا اظہار فیصل جنجوعہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گویا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے انٹرنیٹ کتنی ہی جدت اختیار کیوں نہ کر لے مگر استاد کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے کیونکہ استاد اپنے تجربات اور مشاہدات سے سکھاتا ہے جبکہ انٹرنیٹ کے پاس ایسا کوئی نظام نہیں ہے جہاں وہ اچھائی اور برائی کے درمیان فرق کرنا سکھا سکے اور استاذ ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے جبکہ انٹرنیٹ صرف سکرین دکھا سکتا ہے اس لئے ہر دور میں استاد بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اس کی ضرورت پڑتی ہے شاید ہی ماں باپ کے علاوہ کوئی ذات انسان کی ذات پر اتنا اثر رکھتی ہے جتنا استاد رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے استاذ کی طرح بننے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ استاذ کا کردار ہمیشہ سے انسان کی زندگی کا اہم جزو ہوتا ہے اور یہ اس کی ذات سے جھلکتا بھی ہے کیونکہ استاذہمیں صرف پڑھاتے ہی نہیں ہیں بلکہ وہ ہماری ذات کی تشکیل بھی کرتے ہیں اسی لیے تو استاذ کا مقام بہت بلند ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک اور مہذب قوم میں استاذسے زیادہ کسی شخص کا پروٹوکول نہیں ہوتا ہے اورجہاں استاد کا پروٹوکول نہیں ہوتا ہے اور اس کی اہمیت و افادیت سے انکار کر دیا جاتا ہے وہاں پستی ہی پستی ہوتی ہے اور کوئی اپنی مرضی سے استاد نہیں بننا چاہتا ہے جس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا ہے وہ اس شعبہ کا مجبورا انتخاب کرتا ہے! پھر اس کے نتیجے میں ایک مفلوج قوم پیدا ہوتی ہے جبکہ استاذ ہی وہ ذات ہے جو پوری قوم کو بناتا ہے اور اسے تشکیل دیتا ہے اس لیے استاد کے وقار اور احترام کو معاشی اور معاشرتی ہر لحاظ سے بلند کرنا بہت ہی ضروری ہے۔