اپریل 18, 2026

صحافتی تنظیمیں، انجمن اور کلبس آڈٹ سے مستثنیٰ کیوں۔۔؟؟

کالمکار : جاوید صدیقی

آزادی صحافت یعنی یوم صحافت تین مئی کے موقع پر صدرِ پاکستان اور وزیراعظم پاکستان سمیت بیشتر وزراء و مشیران کے پیغامات پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کی زینت بنے رھے اس موقع پر میں نے خاموشی اور چپ سادھ لی اور مشاہدات و تجربات کی لیبارٹری میں جاکر حقائق پر مبنی نتائج اکھٹے کرنے لگا کئی سوالات تھے جنکا جواب لینا ضروری تھا ان میں صحافی اور جعلی صحافی، صحافی تنظیموں اور کلبوں میں حکومتی مالی اعانت اور اسکا استعمال، صحافت میں گروہ بندیاں اور صحافت کو چند مافیاؤں کے ہاتھوں قید کردینا یہ وہ سوالات ھیں جو تریباٌ ہر صحافی ہر رپورٹر خاص طور پر متاثر صحافی بہت بہتر انداز سے جانتا ھوگا۔ صحافتی میدان میں سب سے بڑھ کر جو منافقت کا عمل دیکھا گیا ھے وہ بیشتر لیڈران کا دوغلہ پن ھے ایک جانب متاثر صحافی کو دلاسا دیتے ہیں تو دوسری ہی جانب ظالم میڈیا مالکان کی خوشامد میں حد سے گر جاتے ھیں اور میڈیا انڈسٹری میں ذاتی فوائد جمع کرتے ھیں، دو رنگی زبان اور عمل کے سبب میڈیا مالکان تو کجا حکومتی ایوانوں میں انکی قدر نہیں رھی وزراء ہوں یا مشیران یا پھر نوکر شاہی طبقہ انہیں بےضمیر اور بلیک میلر سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے اگثر تو بے خوف اور بے لحاظ نوکر شاہی طبقہ طعنے بھی دیتا ھے کہ آپکے میڈیا میں بیشتر بڑے چھوٹے سب ہی لفافہ سمیت دیگر بھیک ھم سے لیکر جاتے ھیں، کچھ نوکر شاہی اور پارلیمینٹرین نے یہاں تک کہہ دیا کہ آپکے صحافتی میدان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو مال سمیٹتے ھیں، ناجائز کام بھی لیتے ھیں اور الٹا غراتے بھی ھیں مگر جو چند صحافی حضرات ایماندار، دیانتدار، سچے اور دیندار ھیں اور وہ پاک و شفاف صاف اصل حقیقی صحافت کررھے ھیں ھم سب انکی دل سے عزت و احترام کرتے ھیں اور انہیں مقدم سمجھتے ہیں۔ ایک حکومتی نمائندے نے کہا کہ ھم نے اپنے طالبعلمی کے زمانے میں جب پرنٹ میڈیا کا زمانہ تھا حقیقت میں رپورٹروں کو رپورٹنگ اور صحافت کرتے دیکھا لیکن آج یوں لگتا ھے بغیر منہ دھلے گھر سے نکلتے ھوئے بازار سے سبزی کی مانند صحافت اور رپورٹنگ خرید لاتے ھیں، نہ تہذیب، نہ اخلاق، نہ کردار، نہ ادب، نہ تحریر اور الفاظ کا انتخاب کا سیلقہ و کرینہ تک نہیں جانتے اور اوپر سے دندناتے کہتے پھرتے ہیں کہ ھم پروفیشنل صحافی ھیں یہ ایسے ھیں گویا گدھے پر صحافت لاد دی گئی ھو۔ انکا یہ نوکرشاہی کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپ کے ہاں صحافتی میدان میں اجارہ داری اور بدمعاشی اس قدر بڑھ چکی ھے کہ لگتا ھے صحافت بھی مافیاؤں کے ہاتھوں قید و سلاسل ھے یہی سبب ھے کہ سینئرز ھوں یا جونیئرز ایماندار، سچے، مخلص رپورٹرز صحافی تنظیم اور انجمن کی لیڈرشپ کیلئے منتخب نہیں ھوتے نظر آتے ھیں۔ انھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ جب ان یو جیز اور کلبس کو سالانہ بنیاد پر لاکھوں اور کڑوروں مالیت کے فنڈ فراہم کئے جاتے ھیں مگر آڈٹ کی رپورٹ اے جی پی آر یا اے جی سندھ سے آڈٹ کروانے کے بعد جاری کیوں نہیں کی جاتیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ھم نے بھی وہ رپورٹ دیکھی ھیں جو آپکی تنظیمیں اور کلبس جاری کرتے ھیں یہ آپ اپنے کسی بھی دوست سے تیار کرواسکتے ھیں۔ کیا وجہ ھے کہ آخر سالانہ بنیادوں پر ملنے والی خطیر رقم سے عام صحافی کارکن مستفید ھوتا نظر کیوں نہیں آتا البتہ عہدیداران خوب مستفید ھوتے نظر آتے ھیں۔۔۔۔۔ معزز قارئین !! اب میں ذکر کرتا ھوں کہ آزادیء صحافت کے دن سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے صحافتی انجمنوں کیلئے امدادی چیک جاری کئے، سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پی ایف یو جے، کے یو جے اور ایس یو جے کے پچاس پچاس لاکھ کے امدادی چیک رہنماؤں کے حوالے کئے۔ پی ایف یو جے کا امدادی چیک لالہ اسد پٹھان اور کے یو جے کا امدادی چیک صدر اعجاز احمد اور عاجز جمالی نے وصول کئے۔ حکومت سندھ کی جانب سے سندھ پارلیمانی رپورٹرز ایسو سی ایشن کو بھی دو کروڑ کا امدادی چیک دیا گیا۔ سکھر یونین آف جرنلسٹس کا امدادی چیک جاوید جتوئی نے وصول کیا، اس موقع پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے شہید بی بی، صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کے ویژن کے تحت صحافیوں کے حقوق کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے، صحافی معاشرے کے آئینہ دار ہیں، انکی صحافتی دشواریوں کا خاتمہ یقینی بنانا ہمارا عزم ہے، اور سندھ حکومت صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن تعاون کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صحافیوں کے عالمی دن کے موقع پر امدادی چیکس کی ادائیگی سندھ حکومت کی ترجیحات کا واضح اظہار ہے، اب کوئی شرجیل انعام میمن سے پوچھے کہ بیان بازی سے آپ اپنا قد بلند کرنے کی جو کوشش کررھے ھیں آپ سندھ حکومت میں کئی بار انفارمیشن وزیر بھی رھے ھیں اور اب بھی ھیں کبھی عام صحافی کے اصل مسائل و مشکلات کو حل کرنے کیلئے اقدام اٹھایا یقیناً ابھی تک نہیں صرف انہیں خاص میں بھاری رقوم تقسیم کرکے اپنی ذمہداری سے بری ذمہ ھونے کا دعویٰ کرتے ھیں، یقیناً آپ انکے کرداروں سے ضرور واقف ھونگے لیکن پھر بھی۔ ھمارے سینئرز کا یہاں تک کہنا ھے کہ آج تک ان نام نہاد لیڈرانوں نے اپنی جامع سے نکل کر چلنا نہیں سیکھا یہ کیا صحافت اور صحافی کے مسائل کو سمجھیں گے۔ جناب شرجیل انعام میمن صاحب آپ کو سخت سست کہنے کو دل کرتا ھے اور آپ کے بڑوں پر بھی کیونکہ مافیا کو دودھ پلانا بھی سنگین جرم ھے۔

جنہیں آپ صحافیوں کی مالی مدد کے سلسلے میں فنڈز کی مد میں بھاری رقوم ادا کرتے چلے آرھے ھیں تیس سال کا فی الفور انکا آڈٹ کیجئے پھر پتا لگ جائیگا کہ آپ کو اور آپکی سندھ حکومت کو کس کس طرح ٹیکہ لگایا جاتا رھا ھے۔ صحافتی تنظیموں، انجمنوں اور کلبوں کے رہنما کوئی مقدس گائیں نہیں کہ جنکا احتساب اور ادا کی گئیں رقوم کا آڈٹ نہ کیا جاسکے۔ مجھ سمیت کتنے ایسے بیروزگار متاثر صحافی رپورٹرز موجود ھیں جو تنظیم، انجمن اور کلبس کے عہدیداران کو مسائل و مشکلات سے نکالنے کیلئے مثبت کردار ادا کرنے کی بار ہا بار توجہ دلاتے رہیں ہیں مگر جیسے انکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ شرجیل انعام میمن آپ اور آپکی سیاسی جماعت و سندھ حکومت اچھی طرح سے واقف ھے کہ جو سالانہ بنیاد پر صحافتی تنظیموں انجمنوں اور کلبس کو مالی امداد دی جاتی رہی ھے یہ پاکستانی عوام کے ٹیکس کا ہی پیسہ ھے جسے انتہائی ایمانداری و دیانتداری کیساتھ تقسیم کرنا ھے اور استعمال کردہ ہاتھوں کی شفافیت کو بھی آپ نے اور آپ کی حکومت نے ہی دیکھنا ھے اگر آپ اور آپکی سیاسی جماعت واقعی صحافیوں سے مخلص ھیں تو سب سے پہلے انکے روزگار کے تحفظ کا مضبوط پختہ عملی جامع قانون بنائیں دوسرا بیروزگار صحافیوں کے روزگار کا فی الفور بندوبست کیلئے انہیں تنظیم ، انجمنوں اور کلبس کے عہدیداران پر پابند رکھا جائے کہ کوئی صحافی بیروزگار نہ ھو اور نہ بیٹھا رھے یہی عمل میاں شہباز شریف وزیراعظم پاکستان بھی اپنائیں کیونکہ تین مئی کو یوم صحافت کے موقع پر صدر آصف علی زرداری کیساتھ ساتھ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے بھی بڑے بڑے بھاشن داغے تھے کیا ان بھاشنوں پر عمل پیرائی ممکن ھوسکے گی کہ نہیں۔ اگر ہاں تو بہت اچھی بات ھے اور اگر نہیں تو خدارا عوام کا تو جینا مشکل کردیا ھے کیا اب صحافیوں کیساتھ بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا جائیگا۔ ایک حقیقی سچے صحافی کے قلم سے لکھی گئی "تحریر اور آواز نہ مٹائے جانے والی تاریخ کا حصہ بن جاتی ھے” پھر وہی لکھا اور بولا جاتا ھے جو سچ اور برحق ھوتا ھے بیشک سچ باطل کو مٹادیتا ھے۔سابق جسٹس صاحب سے ملاقات کے دوران صحافیوں کے درپیش مسائل پر جب بات ھوئی تو انھوں نے واضع طور پر اس بابت ریاست حکومت اور خود عدلیہ کو بھی مورد الزام ٹہرایا کہ جب ریاست کے چوتھے ستون کے اندر ہی ٹوٹ پھوٹ مالی و ذہنی تکالیف بھری پڑی ھوں تو کس قدر ایک بہترین صحافی وطن کیلئے اچھی خدمات پیش کرسکے گا جب صحافی ہی زمانے کے بیشمار زنجیروں میں مقید ھو تو نہ قلم سے تحریر ممکن اور نہ آواز کی بلندی گویا سرزمین پاکستان میں صحافت پر شدید قدغن ھے یہ ایک مکمل سوچی سمجھی اسکیم کے تحت رکھا گیا ھے ۔۔۔!!