اپریل 18, 2026

سر تجمل حسین شاہد۔۔۔۔۔ ریٹائرمنٹ پر خراج تحسین

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں

عموماً یہ ہوتا ہے کہ جس مضمون سے آپ کو خصوصی لگاؤ ہوتا ہے ، اسی مضمون کے اساتذہ سے آپ کا خصوصی قلبی تعلق ہوتا ہے ۔ لیکن یہ تصور مجھے میری ذات کی حد تک ناقابل اعتبار محسوس ہوا ۔میرے مشکل ترین مضامین میں ریاضی نمبر ایک تھا ۔ لیکن اسی مضمون کے استاذ میرے بہترین اساتذہ میں شامل ہیں ۔ہے نا حیرت کی بات ۔ آج میری تحریر کا موضع وہی نابغہ روزگارشخصیت ہے ، جن کا شمار میرے بہترین اساتذہ میں ہوتا ہے ۔ جب چشم تصور مجھے گورنمنٹ ہائی سکول سیکریالی کے وسیع سبزہ زار میں لے جاتی ہے ۔ صبح کے وقت ایک ایسی شخصیت اپنی خوبصورت نئی نویلی سائیکل پر سکول کے مین گیٹ سے ایک مخصوص وقت پر نمودار ہوتی ہے ۔یہ سلسلہ ایک تسلسل سے قائم ہے ۔ اس میں کمی بیشی کی گنجائش نہیں ۔

یہ میرے محترم اور شفیق استاذ سر تجمل حسین شاہد ہیں ۔ گو کہ اس وقت جسامت کے اعتبار سے بعض اس وقت کے ہمارے ہم جماعت طلبہ سے قلیل الجثہ ہوں لیکن اپنی فقاہت اور مقصد کی لگن کے اعتبار سے سب کی آنکھوں کا تارا ہیں ۔ 1992 کے سال میں حساب کتاب سکھاتے تھے ، ساتھ میں فزکس میں ہمیں پڑھاتے ، فزکس میں تو گزارہ وغیرہ ہورہا تھا ، حساب کتاب نے نہ آنا تھا ، اب تک نہیں آیا ہے ۔لیکن استاذ محترم سے جو تعلق خاطر قائم ہوا وہ اب تک قائم ہے ۔

سر تجمل حسین شاہد ہمارے پاس ہی ایک گاؤں ساگر ڈھاڑیوال کے سکونت پذیر ہیں ۔ انتہائی شفیق اور دوستانہ تعلق کے قائم رکھنے کے ماہر ، علمی وظائف ادا کرنے میں اپنی مثال آپ ، وقت کے پابند ، سردی ، گرمی ، سیلاب ، بلا ہر دقت میں اپنے کام کو فوقیت دینے والے ، درویش صفت انسان ہیں ۔ ہزاروں لوگوں نے ان سے علمی میراث حاصل کی لیکن ان کی سادگی اور قناعت پسندی میں فرق نہیں آیا ۔
21اگست 1989 کو گورنمنٹ ھائ سکول چیلیانوالہ(موجود ضلع منڈی بہاوالدین) میں بطور SST (سائنس) سے جوائننگ سے لے کر 30اپریل 2024 کو تقریباً 35 سال کے بعد بطور ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ھائ سکول سیکریالی(گجرات) سے محکمہ تعلیم سے فارغ ہوگئے ۔

1990 سے 2007تک گورنمنٹ ھائ سکول سیکریالی میں سائنس اور میتھ کے استاد کے طور پر کام کیا اور 5 سال 2007 سے 2012 بطور ڈسٹرکٹ ٹیچر ایجوکیٹر (DTE)کام کیا۔
ابھی موجودہ گورنمنٹ ہائی سکول سیکریالی میں بطور ہیڈ ماسٹر تقریبا چھے ماہ سے کام کررہے تھے ۔
سیکریالی سے فراغت کے بعد مختلف مقامات پر جاب کے سلسلے میں آتے جاتے سر تجمل سے بھی رابطہ رہا ۔ جب بھی کسی قسم کی مدد کی ضرورت پیش آئی ، کبھی تصدیق کا معاملہ ہو یا داخلہ کی شکل میں رہنمائی کی طلب ہو ، دوران تعلیم کبھی بھی کوئی دقت پیش آئی ہو سر تجمل ہمیشہ بسرو چشم ہمیشہ حاضر رہے ہیں ،ہمیشہ شفقت فرماتے ،

میرے والد گرامی کی وجہ سے خصوصی احترام سے پیش آتے ۔ ہمیشہ “قاضی جی “ کہ کر پکارا ہے ۔ اللہ کریم ان کی یہ خوش گمانی قائم رکھے ۔آج ان کی ریٹائرمنٹ کی خبر سنی تو خوشی ہوئی کہ ہمارے محترم استاذ نے اپنی تقریباً تمام آسودہ خواہشات کی تکمیل کے بعد اپنے فرائض منصبی کو چھوڑا ہے ۔ ان کا ہونہار بیٹا ماشاءاللہ ڈاکڑ بن کے اپنی سروس شروع کرچکا ہے ۔

ایسے حالات میں اگر انسان روحانی اور جسمانی طور پر مطمئن ہوکر اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہو تو یہ اعزاز کی بات ہے ۔ ہماری اللہ کریم سے دعا ہے کہ اپنے تمام جائز خواہشات کی تکمیل کے مواقع عطا فرمائے رکھے ۔ ان کی ذات سے تشنگان علم کی سیرابی کا سلسلہ سعید جاری وساری رہے ۔آمین
کورس تو لفظ ہی سکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔آدمی، آدمی بناتے ہی