کالمکار: جاوید صدیقی
مجھے یہ جان کر انتہائی خوشی اور مسرت حاصل ھوئی جب میرے صحافی دوست نے مجھے بتایا کہ فلاں فلاں شدید مرض میں لا حق تھا اور فلاں فلاں بیروزگاری کے سبب فاقہ کشی کی نوبت تک پہنچ چکا تھا فلاں فلاں پریشانی و مصبیت میں گھر چکا تھا اس ان تمام مواقع پر کراچی یونین آف جرنلسٹ اور کراچی پریس کلب کے مخیر ممبران اور کچھ اعلیٰ عہدوں پر فائز چینل و اخبارات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ایسے مستحق اور مالی کمزوری صحافیوں کا دامن صرف اور صرف اللہ سبحان تعالیٰ اور رسول خدا ﷺ کی رضا و خوشنودگی حاصل کرنے کیلئے خفیہ طریقہ سے مددگار ثابت ھوئے اور مشکلات سے گھرے صحافیوں کو تن تنہا نہ چھوڑا یوں تو کراچی سے تعلق رکھنے والی بیشمار شخصیات یقیناً ہونگی لیکن جن کے نام میرے سامنے آئے انہیں خراج تحسین اور سراہنے کی خاطر نام پیش کررھا ھوں تاکہ دیگر دوست بھی اس بہترین عوامل کو اپنالیں ان میں کراچی پریس کلب کے ممبران جاوید چوہدری، امتیاز فاران خان، مظہر عباس، ارمان صابر، رضوان بھٹی، شعیب احمد خان، اے ایچ خانزادہ، کاشف حسین، فہیم صدیقی، ناصر محمود، آغا خالد، اختر شاہین رند، خالد فرشوری، علی عمران جونیئر، عامر لطیف، ارباب چانڈیو، اسلم خان، عاجزجمالی، عارف بلوچ، عارف ہاشمی، اسلم مورائی، اطہر جاوید صوفی، عامر شیخ، اعجاز کورائی، چاند نواب، سراج احمد، وسیم چوہدری، فاضل جمیلی، جی ایم جمالی، جاوید جئے جا، اکرم خان، عبدالرحمٰن، قاضی یاسر، عمر، خلیل ناصر، لیاقت، آصف جئے جا، عبید ناریجو، موسیٰ کلیم، سعید سبزواری، نصراللہ چوہدری، قمر رضوی، قاضی سراج، رفیق شیخ، شمس کیریو، وحید راجپر، ڈاکٹر عبدالجبار، افضال محسن، بھائی میاں سمیت ایسی صحافی دوست شخصیات بہت ھیں جو درد دل اور رحم دلی کا نرم گوشہ سمائے ھوئے ھیں یہی وجہ ھے کہ متاثرین قلیق کو ان معزز شخصیات میں سے کوئی نہ کوئی ضرور تھام لیتا ھے۔ مجھے فخر اور ناز ھے اپنے پیشہ پر اور اپنی صحافتی برادری پر کہ یہ سب کو اپنا گھرانہ سمجھتے ھیں اور آپس میں اخوت، پیار، محبت، ایثار و قربانی کے جذبے کو رکنے نہیں دیتے اسی لئے میں کہتا ھوں کہ آئی لو یو کے یو جے اور آئی لو یو کے پی سی۔ میں یہ سمجھتا ھوں کہ پاکستان بھر کی یوجیز ہوں یا کلبس تمام کے تمام یہی جذبہ اور یہی خدمات ضرور بلضرور رکھتے ھونگے۔ اللہ ھم پاکستانی صحافی برادری میں یونہی مثبت عمل جاری رکھنے کی توفیق قائم رکھے آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔ !!




