پنڈ دادن خان (گوہر وقاص پراچہ)ملک میں سانس لینی ہے تو ہر شہری کو ناجائز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔گزشتہ پانچ سال سے بجلی کمپنیوں نے عوام کو کھربوں روپے کے ناجائز بجلی کے بل ڈال کر ان کو مالی و ذہینی نقصان پہنچایا ہے۔بابر سلہری تفصیلات کیمطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم یوتھ اسمبلی فار ہیومن رائٹس کے مر کزی صدر بابر سلہری نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان میں بجلی کمپنیوں نے صارفین کو 2018 سے لے کر اب تک خربوں روپے کے غیر قانونی بجلی کے بل جمع کروانے پر عوام کو مجبور کیا ہے اور ناجائز طور پر اوور بلنگ کرنے کا سلسلہ بدستور ابھی تک جاری ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو ملک میں اگر سانس لینا ہیہر شہری کو ناجائز ٹیکس دینا ہوگا۔اٗنہوں نے کہا(NEPRA)نے تسلیم کیا ہے کے عوام کو غیر قانونی بجلی یونٹ کے ساتھ بل دئیے گے ہیں۔ جس وجہ سے ملک میں خودکش اموات میں اضافہ ہوا ہے اور عورتوں نے اپنے زیورات بیچ کر بجلی بل جمع کروائے ہیں۔IMF نے غریب عوام کو رلیف دینے کا کہا مگر غریب عوام سے ہی غیر قانونی وصولیاں کی جارہی ہیں۔ یہ انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی ہے۔ ریاست اپنا کردار ادا کر نے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ بجلی میں کر پشن سوئی گیس میں کرپشن ریاست کا معمول بن چکا ہے۔اٗنہوں نے کہا کے ہم نے UNO اور عالمی عدالت کو رپورٹس بیجھنا شروع کر دیا ہے۔ تمام سول سو سائٹی کو اب بین الاقوامی سطح پر احتجاج کی ضرورت ہے۔ پاکستانی تمام عدالتیں صرف سیاسی معاملات حل کر نے میں مصروف عمل ہیں بنیادی انسانی حقوق کا قانون اور آئین دفن کر دیاگیاہے




