تحریر: ہارون الرشید
پچھلے کالم میں ہم نے مصنوعی ذہانت کا تعارف پیش کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی ہماری روزمرہ زندگی کو کس طرح آسان بنا رہی ہے۔ لیکن جس طرح ہر نئی سہولت کے فائدے ہوتے ہیں، اسی طرح کچھ لوگ اسے دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے بھی استعمال کرنے لگے ہیں۔ آج اسی سلسلے کی اگلی کڑی میں بات کرتے ہیں کہ عام آدمی آن لائن فراڈ سے خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے، اور کن نئے طریقوں سے وہ بے خبر ہے۔
جعلی بینک کالز جن میں او ٹی پی یا اے ٹی ایم نمبر مانگا جاتا ہے، یا انعامی رقم کے جھوٹے واٹس ایپ پیغامات — یہ سب اب کافی حد تک لوگوں کی سمجھ میں آ چکے ہیں۔ لیکن کچھ نئے اور کم معروف طریقے ایسے ہیں جن سے عام لوگ ابھی تک انجان ہیں، اور یہی سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایک عام طریقہ یہ ہے کہ ایک اجنبی نمبر سے واٹس ایپ پیغام آتا ہے کہ "معذرت، میں نے غلطی سے آپ کو کوڈ بھیج دیا، برائے مہربانی مجھے واپس بھیج دیں۔” حقیقت میں وہ کوڈ آپ کے اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کا ویریفیکیشن کوڈ ہوتا ہے، اور اسے بھیجتے ہی آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہو کر آپ کے تمام دوستوں سے پیسے مانگنے کے لیے استعمال ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح ایک اور عام حربہ جعلی کورئیر یا پارسل کا پیغام ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ "آپ کا پارسل کسٹمز میں رکا ہوا ہے، چھوڑنے کے لیے چھوٹی سی فیس ادا کریں”، اور ساتھ دیے گئے لنک پر کارڈ کی تفصیلات ڈالتے ہی اکاؤنٹ خالی ہو جاتا ہے۔
نوکری کی جھوٹی آفرز بھی اسی طرح کا ایک عام ہتھکنڈا ہیں، جہاں بیرون ملک یا اچھی تنخواہ کی نوکری کا لالچ دے کر انٹرویو سے پہلے "فارم فیس” یا "ویزا پروسیسنگ فیس” مانگی جاتی ہے، حالانکہ اصلی کمپنیاں کبھی نوکری دینے سے پہلے پیسے نہیں مانگتیں۔ مصنوعی ذہانت نے اس میں ایک اور خطرناک اضافہ کر دیا ہے: دھوکہ باز کسی بچے یا رشتہ دار کی سوشل میڈیا سے آواز کا نمونہ لے کر AI کی مدد سے ملتی جلتی آواز بنا لیتے ہیں اور فون کر کے کہتے ہیں کہ "میں مصیبت میں پھنس گیا ہوں، فوراً پیسے بھیجو۔” گھبراہٹ میں لوگ بغیر تصدیق کیے رقم بھیج دیتے ہیں۔ اسی نوعیت کی جعلی سرمایہ کاری اور کرپٹو اسکیمیں بھی عام ہو چکی ہیں، جن میں تھوڑی رقم لگانے پر شروع میں معمولی منافع دکھایا جاتا ہے تاکہ اعتماد بن جائے، اور جب لوگ بڑی رقم لگا دیتے ہیں تو یہ لوگ غائب ہو جاتے ہیں۔ فیس بک مارکیٹ پلیس پر چیز بیچنے والوں کو جعلی بینک ٹرانسفر رسید کا اسکرین شاٹ بھیج کر یقین دلایا جاتا ہے کہ رقم بھیج دی گئی ہے، جبکہ حقیقت میں کھاتے میں کچھ نہیں پہنچتا۔ اور کچھ "فوری آسان قرض” دینے والی موبائل ایپس ایسی بھی ہیں جو انسٹال ہوتے ہی صارف کے موبائل کے تمام رابطے اور تصاویر تک رسائی لے لیتی ہیں، اور بعد میں انہی کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا ہے۔
خوش قسمتی سے وہی مصنوعی ذہانت جو فراڈ کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اسی سے ہم اپنا دفاع بھی کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی مشکوک پیغام، ای میل یا اسکرین شاٹ آنے پر اسے کسی مفت AI چیٹ ایپ میں کاپی کر کے پوچھا جا سکتا ہے کہ "کیا یہ پیغام فراڈ لگتا ہے؟ اس میں کیا مشکوک باتیں ہیں؟” — AI عام طور پر جھوٹے دباؤ ڈالنے والے الفاظ، عجلت کا انداز، یا مشکوک لنکس کی نشاندہی کر دیتا ہے۔ اگر کوئی تصویر یا پروفائل مشکوک لگے تو اس کی ری ورس امیج سرچ کروا کر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہی تصویر کسی اور جگہ، کسی اور نام سے تو استعمال نہیں ہو رہی۔ البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ AI سے یہ پوچھنا کہ "کیا یہ نمبر اصلی ہے” مناسب نہیں، کیونکہ AI کے پاس براہ راست ریکارڈ چیک کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے متعلقہ ادارے کی آفیشل ویب سائٹ یا ایپ سے دیا گیا نمبر خود ڈائل کرنا چاہیے، پیغام میں دیے گئے نمبر پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح کسی نئی سرمایہ کاری یا نوکری کی آفر کا نام AI سے پوچھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آیا یہ کسی معروف فراڈ پیٹرن سے ملتی جلتی ہے۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ AI سے مدد لیتے وقت اپنا اصل شناختی کارڈ نمبر، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، یا پاس ورڈ کبھی بھی چیٹ میں نہ ڈالیں، چاہے مقصد تصدیق ہی کیوں نہ ہو۔ صرف پیغام کا متن یا مشکوک بات شیئر کرنا کافی ہے۔
فراڈ کرنے والے وقت کے ساتھ اپنے طریقے بدلتے رہتے ہیں، اس لیے صرف پرانی احتیاطوں پر انحصار کافی نہیں۔ کسی بھی غیر متوقع، جلد بازی پر مبنی، یا بہت اچھی لگنے والی آفر پر فوری عمل کرنے کی بجائے رک کر سوچنا، تصدیق کرنا، اور ضرورت پڑے تو AI کی مدد سے بھی جانچنا ہی دانشمندی ہے۔ اگر کبھی کوئی فراڈ کا شکار ہو جائے تو فوراً قریبی تھانے یا FIA سائبر کرائم ونگ کی ہیلپ لائن 1991 پر رپورٹ کرنی چاہیے۔ آگاہی ہی وہ پہلا قدم ہے جو ہمیں اس بدلتی دنیا میں محفوظ رکھ سکتا ہے۔





