کالمکار: جاوید صدیقی
سلام ہو اُن پر جو ہدایت کی پیروی کرتے ہیں، حق کی دعوت ہمیشہ سے انسانیت کی رہنمائی، اصلاح اور فلاح کا ذریعہ رہی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حق اور باطل آمنے سامنے آئے، حق کی آواز ہر شخص کو خوشگوار نہیں گزری۔ کچھ لوگوں نے اسے قبول کیا، کچھ نے اس پر غور کیا اور اپنی اصلاح کی، جبکہ بعض نے اپنے مفادات، تعصبات، خواہشات اور ضد کی وجہ سے حق کی آواز کو دبانے یا نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔ آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ جب کسی معاشرے میں سچ، انصاف، دیانت، اخلاق، ذمہداری اور اللہ کی ہدایت کی بات کی جاتی ہے تو بہت سے لوگ اسے اپنی سوچ، مفاد یا طرزِ زندگی کے لیے چیلنج سمجھ لیتے ہیں۔ حق کی بات انہیں برہم کرتی ہے، بعض اوقات ان کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے، کیونکہ حق انسان کو اپنے گریبان میں جھانکنے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے اور اپنے کردار کا احتساب کرنے پر مجبور کرتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حق کسی کی پسند یا ناپسند کا محتاج نہیں ہوتا۔ حالات بدل سکتے ہیں، زمانے بدل سکتے ہیں، حکمران بدل سکتے ہیں، معاشرتی رویے بدل سکتے ہیں اور لوگوں کے نظریات بھی تبدیل ہوسکتے ہیں، مگر حق اپنی حقیقت میں حق ہی رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، شعور اور اختیار عطا کیا اور اپنی ہدایت کے لیے انبیاء و رسلؑ مبعوث فرمائے۔ ان مقدس ہستیوں نے انسانیت کو توحید، عدل، اخلاق، امانت، سچائی اور اللہ کی بندگی کی طرف بلایا۔ انہوں نے حق کو اپنی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ اللہ کی ہدایت کے مطابق لوگوں تک پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ حق کی دعوت کسی فرد، خاندان، قوم یا گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ انسانیت کی اصلاح کا پیغام ہے۔ مگر ہر دور میں باطل نے حق کے مقابل اپنی مختلف شکلیں اختیار کیں۔ کبھی طاقت کے ذریعے، کبھی دولت کے ذریعے، کبھی جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے، کبھی تعصب کے ذریعے اور کبھی لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کرکے انہیں حقیقت سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔ آج کے دور میں بھی انسان کو گمراہ کرنے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ غلط معلومات، جھوٹ، فریب، نفرت، انتہا پسندی، مفاد پرستی اور خواہشات کی پیروی انسان کے شعور کو متاثر کرسکتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہر بلند آواز سچ نہیں ہوتی، ہر مقبول نظریہ درست نہیں ہوتا اور ہر وہ بات جو اکثریت کہہ رہی ہو لازماً حق نہیں بن جاتی۔ انسان کو چاہیے کہ وہ بات کو دلیل، عقل، اخلاق اور اللہ کی ہدایت کی روشنی میں پرکھے۔ شیطان کا بنیادی مقصد انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے دور کرنا اور اسے ایسی راہوں پر ڈالنا ہے جو بالآخر اس کی دنیا و آخرت دونوں کے لیے نقصان دہ ہوں۔ وہ انسان کے اندر تکبر، حسد، بغض، لالچ، خود غرضی، نفسانی خواہشات اور حق سے انکار کے جذبات کو ابھارتا ہے۔ مگر اس کے مقابل انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل، ایمان، توبہ، دعا اور ہدایت کا راستہ عطا فرمایا ہے۔ اس لیے حق سے اختلاف رکھنے والے ہر شخص کو دشمن سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ حق کی دعوت کا اصل مقصد کسی کی تحقیر نہیں بلکہ انسان کو حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ دعوتِ حق میں حکمت، صبر، اچھا اخلاق اور دلیل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہمیں خود بھی حق کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے اور دوسروں تک بھی اسے خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ پہنچانا چاہیے۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم حق کی بات کتنی خوبصورتی سے دوسروں کو سناتے ہیں؛ اصل امتحان یہ ہے کہ جب حق ہمارے اپنے مفاد، انا، خواہش یا غلطی کے خلاف کھڑا ہو تو کیا ہم اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں؟ اگر حق ہمارے خلاف ہو تو بھی حق ہے، اور اگر باطل ہمارے حق میں ہو تو بھی باطل ہی ہے۔ انسان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنی خواہش کو حق کا معیار نہ بنائے بلکہ حق کو اپنی زندگی کا معیار بنائے۔ جو شخص سچائی کو پہچان کر اس کے سامنے جھک جاتا ہے، وہ حقیقت میں اپنے رب کی طرف بڑھتا ہے۔ اور جو شخص تکبر، ضد اور مفاد کی خاطر حق کو رد کرتا ہے، وہ بظاہر دنیا میں کامیاب نظر آئے تو بھی اپنے باطن میں خسارے کا شکار ہو سکتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے پہلے اپنا احتساب کریں، نفرت کے بجائے خیرخواہی کو فروغ دیں، جھوٹ کے بجائے سچ کو اختیار کریں، ظلم کے بجائے انصاف کا ساتھ دیں، تعصب کے بجائے انسانیت کو مقدم رکھیں اور اپنی خواہشات کے بجائے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو رہنما بنائیں۔ حق کو دبایا جاسکتا ہے، اس کی آواز کو وقتی طور پر خاموش کیا جاسکتا ہے، مگر حق اپنی حقیقت میں مٹ نہیں جاتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت خود کو آشکار کردیتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی، اپنے کردار اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور خود سے یہ سوال کریں: کیا ہم حق کو صرف اس وقت قبول کرتے ہیں جب وہ ہمارے مفاد میں ہو؟ یا حق ہمارے خلاف بھی ہو تو اسے تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ فیصلہ ہر انسان کو خود کرنا ہے۔ کیا ہم نصیحت حاصل کریں گے؟ کیا ہم حق کو پہچانیں گے؟ کیا ہم اپنے رب کی ہدایت کی طرف رجوع کریں گے؟ سلام ہو اُن پر جو ہدایت کی پیروی کرتے ہیں۔۔۔۔!!





