ستمبر 11, 2026

جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف ساقی پر تشدد کا معاملہ: مقدمہ درج، پولیس نے 3 افراد کو حراست میں لے لیا

پولیس نے جامعہ کراچی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ پروفیسر عارف ساقی پر تشدد میں ملوث 3 افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جب کہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کے مطابق سینئر پروفیسر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے جامعہ کراچی جا رہے تھے کہ ایک مقام پر گاڑی رکنے کے دوران ڈبل کیبن نے ریورس کر کے ان کی ٹیکسی کو ٹکر مار دی۔ اس پر جب پروفیسر عارف ساقی نے گاڑی میں سوار افراد سے غریب ڈرائیور کے نقصان کا ازالہ کرنے کا کہا، تو ڈبل کیبن میں موجود مقامی ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور اس کے گن مینوں نے ان پر اور ان کے بھتیجے پر شدید تشدد کیا۔ ملزمان نے پروفیسر کے سر پر پستول کے بٹ مارے، دھکے دیے، ہوائی فائرنگ کی اور انہیں گھسیٹ کر اپنے ریسٹورنٹ لے گئے جہاں انہیں حبس بے جا میں رکھ کر دوبارہ مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعے کا مقدمہ پروفیسر عارف خان ساقی کی مدعیت میں سچل تھانے میں کونین علی گوہر شاہ سمیت دیگر مسلح ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے، جس میں اقدامِ قتل، مار پیٹ، زخمی کرنے اور حبسِ بے جا کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق مسلح ملزمان پروفیسرز پر تشدد کے بعد ان کے بھتیجے کی گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر پروفیسر اور ان کے بھتیجے کو بازیاب کرایا۔ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے بھی اپنے سینئر استاد پر تشدد کے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملوث تمام ملزمان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔