تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)
کروڑوں روپے سے بننے والا عوامی منصوبہ، ٹف ٹائلز کی شکستگی، پانی اور بجلی کا بحران، خود رو جھاڑیوں کا راج، مگر ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ کا فوری نوٹس امید کی کرن بن گیا۔ 82.52 کنال رقبے پر قائم منصوبہ، 12 ہزار 481 افراد کی گنجائش، چھ ماہ کی مقررہ تعمیراتی مدت، مگر دیکھ بھال کے مسائل نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
اوکاڑہ شہر کے ساؤتھ سٹی میں چک 5/4L کے مقام پر قائم حبیب جالب پارک اینڈ اسپورٹس کمپلیکس بلاشبہ ایک ایسا منصوبہ ہے جسے شہریوں، خصوصاً بچوں، نوجوانوں اور خاندانوں کے لیے تفریح، کھیل اور صحت مند ماحول کی فراہمی کے مقصد سے تعمیر کیا گیا۔ تقریباً 14 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے اس منصوبے سے توقع تھی کہ یہ اوکاڑہ میں شہری سہولیات کے حوالے سے ایک خوبصورت اضافہ ثابت ہوگا۔لیکن کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی کامیابی صرف اس کی تعمیر مکمل ہونے سے ثابت نہیں ہوتی۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب منصوبہ عوام کے حوالے کیا جاتا ہے اور اس کی صفائی، بجلی، پانی، باغبانی، سکیورٹی اور مرمت کا مستقل نظام قائم کیا جاتا ہے۔حبیب جالب پارک کی موجودہ صورتحال نے بھی اسی بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کروڑوں روپے سے تعمیر ہونے والے عوامی منصوبے کی تعمیر کے بعد دیکھ بھال کا نظام کس قدر مؤثر ہے؟حبیب جالب پارک کا منصوبہ سرکاری دستاویزات میں ابتدا میں پارک چک نمبر 5/4L کے نام سے درج کیا گیا، جبکہ PC-I میں اسے داتا چوک کے قریب 5/4L پارک قرار دیا گیا۔ بعد ازاں میونسپل کمیٹی اوکاڑہ کی جانب سے یکم مئی 2024 کو اسے حبیب جالب پارک اینڈ اسپورٹس کمپلیکس اوکاڑہ کے نام سے بھی پیش کیا گیا۔منصوبے کی سرکاری طور پر منظور شدہ لاگت 138.373 ملین روپے تھی، یعنی 13 کروڑ 83 لاکھ 73 ہزار روپے۔ عام فہم انداز میں اسے تقریباً 14 کروڑ روپے کا منصوبہ کہنا درست ہے۔سرکاری PC-I کے مطابق پارک کا کل رقبہ 82.52 کنال، یعنی تقریباً 10.315 ایکڑ ہے، جبکہ منصوبہ بندی کے مطابق یہاں بیک وقت 12 ہزار 481 افراد کی گنجائش رکھی گئی تھی۔یہ محض ایک عام پارک نہیں تھا بلکہ اسے ایک مکمل تفریحی اور کھیلوں کے کمپلیکس کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔ منصوبے میں جاگنگ ٹریک، بچوں کے کھیلنے کی جگہ، کرکٹ اور فٹ بال گراؤنڈ، بیڈمنٹن، والی بال اور کبڈی کے لیے سہولیات، سایہ دار بیٹھنے کی جگہیں، ٹوائلٹس، ٹک شاپ، گارڈ روم، باغبانی، پھولوں کی کیاریاں، برڈ کیج، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب سمیت متعدد سہولیات شامل تھیں۔سانچ کے قارئین کرام!یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس منصوبے کے لیے تقریباً 14 کروڑ روپے کہاں سے آئے؟سرکاری PC-I کے مطابق منصوبے کی تقریباً 80 فیصد رقم، یعنی 11 کروڑ 6 لاکھ 98 ہزار روپے، پنجاب سٹیز پروگرام کے تحت گرانٹ کی صورت میں فراہم کی گئی، جبکہ تقریباً 20 فیصد رقم، یعنی 2 کروڑ 76 لاکھ 74 ہزار روپے، میونسپل کمیٹی اوکاڑہ کا حصہ تھی۔یعنی اس منصوبے میں عوامی وسائل کا ایک بڑا حصہ شامل ہے، جس کی وجہ سے اس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت اور مستقل دیکھ بھال بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔منصوبے کی ٹینڈر دستاویز میں تعمیر مکمل کرنے کے لیے چھ ماہ کی مدت مقرر کی گئی تھی۔ لیکن یہاں ایک اہم صحافتی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس منصوبے کی عملی تکمیل کب ہوئی؟میونسپل کمیٹی اوکاڑہ کی فروری 2024 کی ایک رپورٹ میں یہ منصوبہ Implementation Phase میں درج تھا۔ پھر 16 مارچ 2024 کو پنجاب لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری نے اوکاڑہ کا دورہ کیا اور 5/4L پارک کے ترقیاتی کام کا بھی جائزہ لیا۔اس کے بعد 26 مارچ 2024 کی مقامی میڈیا رپورٹ میں پارک کو تیاری کے آخری مراحل میں دکھایا گیا۔یہ تمام ریکارڈ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ چھ ماہ کی مقررہ مدت کے مقابلے میں منصوبے کی عملی تکمیل کا سفر کیا رہا؟ کیا تعمیر کے دوران کوئی توسیع ہوئی؟ اگر ہوئی تو اس کی وجہ کیا تھی؟ اور منصوبے کی تکمیل اور حوالگی کی حتمی تاریخ کیا ہے؟اب ذرا موجودہ صورتحال کی طرف آتے ہیں۔پارک کے مین گیٹ سے داخل ہوتے ہی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی پہلی علامت بیٹھی ہوئی ٹف ٹائلز کی صورت میں نظر آتی ہے۔ ایک ایسے منصوبے کے داخلی راستے پر، جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہوں، ٹف ٹائلز کا بیٹھ جانا یقیناً توجہ طلب امر ہے۔یہ ضرور ہے کہ عوامی احتجاج اور میڈیا پر پارک کی حالت کی نشاندہی کے بعد یہاں صفائی اور دیکھ بھال کے انتظامات میں بہتری لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب پارک میں دو مالی اور ایک سکیورٹی گارڈ تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ سکیورٹی گارڈ گیٹ کیپر کے فرائض بھی انجام دے رہا ہے۔پارک کے گیٹ کیپر تنویر حسن نے راقم الحروف (محمدمظہررشید چودھری)کو بتایا کہ پودوں اور گراؤنڈز کو پانی دینے کا انتظام ناقص ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق بجلی کی عدم دستیابی کے حوالے سے شکایت بھی درج کروائی جا چکی ہے تاکہ پودوں کو بروقت پانی فراہم کیا جا سکے۔بجلی کا مسئلہ صرف پودوں کی آبپاشی تک محدود نہیں۔ اس کا براہ راست اثر پارک کی روشنی پر بھی پڑتا ہے اور پارک کا ایک بڑا حصہ شام ہوتے ہی اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہریوں کی شام کی تفریح اور ورزش کے لیے بنائے گئے ایک بڑے پارک میں مناسب روشنی کا مستقل انتظام کیوں نہیں ہونا چاہیے؟پارک کے مختلف حصوں کا جائزہ لینے پر ایک اور صورتحال سامنے آتی ہے۔ پارک کے ایک بڑے حصے میں خود رو پودے اور جھاڑیاں اْگ چکی ہیں۔ بعض مقامات پر گھاس اور غیر ضروری نباتات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ باغبانی اور گراؤنڈز کی دیکھ بھال میں تسلسل کی ضرورت ہے۔یہ منظر اس لیے بھی اہم ہے کہ منصوبے میں باغبانی، پھولوں کی کیاریوں اور سرسبز ماحول کو خاص اہمیت دی گئی تھی۔یہاں کسی مالی بے ضابطگی یا کرپشن کا الزام لگانا مقصود نہیں، لیکن عوام کے پیسے سے بنائے گئے منصوبے کی دیکھ بھال، خرابیوں اور انتظامی مسائل کی نشاندہی کرنا یقیناً صحافت اور شہری ذمہ داری کا حصہ ہے۔حبیب جالب پارک ساؤتھ سٹی اوکاڑہ، چک 5/4L میں واقع ہے۔ راقم الحروف نے مین جی ٹی روڈ اورچک 53/2L روڈ کے قریب رہنے والے بعض مکینوں اور دکانداروں سے اس پارک کے بارے میں دریافت کیا تو کئی افراد پارک کے نام اور اس منصوبے سے مکمل طور پر لاعلم پائے گئے۔یہ صورتحال بھی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے لیے غور طلب ہے۔آخر ایسا منصوبہ جس پر تقریباً 14 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہوں، اگر اس کے آس پاس رہنے والے بعض شہری بھی اس کے بارے میں پوری طرح آگاہ نہ ہوں تو کیا اس کی تشہیر، عوامی رسائی اور شہریوں کو اس سہولت سے استفادہ دلانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت نہیں؟’سانچ‘ کی رپورٹ، ڈپٹی کمشنر کا فوری نوٹس۔حبیب جالب پارک کی حالت زار کو راقم الحروف (محمد مظہر رشید چودھری)نے خصوصی رپورٹ کے ذریعے اجاگر کیا اور معاملہ ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ محمد اکرام ملک کے علم میں لایا گیا۔ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افراد کو پارک کی اصلاح احوال کے احکامات جاری کیے اور پارک کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے پر زور دیا۔یہ بلاشبہ ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ کسی عوامی مسئلے کی نشاندہی کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فوری کارروائی اس بات کی علامت ہے کہ اگر مسائل ذمہ دار حکام تک پہنچائے جائیں تو ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر محمد اکرام ملک کے فوری نوٹس اور اصلاح احوال کے احکامات پر علاقہ مکینوں کی جانب سے بھی اظہار تشکر کیا گیا ہے۔تاہم اب اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ اصلاح احوال کے یہ احکامات صرف وقتی کارروائی تک محدود نہ رہیں بلکہ پارک کی مستقل دیکھ بھال کا باقاعدہ نظام تشکیل دیا جائے۔حبیب جالب پارک کی بہتری کے لیے صرف صفائی کافی نہیں۔ پودوں کو بروقت پانی، بجلی کی مستقل فراہمی، مناسب روشنی، ٹف ٹائلز کی مرمت، جھاڑیوں کی کٹائی، گراؤنڈز کی دیکھ بھال، سکیورٹی اور دیگر سہولیات کے لیے مستقل انتظام ضروری ہے۔اوکاڑہ میں پارکس اور ہارٹیکلچر کے انتظامی نظام میں بھی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ نئے ضلعی ہارٹیکلچر اداروں کے قیام کے بعد پارکس کی دیکھ بھال سے متعلق ذمہ داریوں کی منتقلی کا عمل سامنے آیا ہے۔ اس لیے متعلقہ اداروں کو واضح کرنا چاہیے کہ حبیب جالب پارک کی موجودہ انتظامی ذمہ داری کس ادارے کے پاس ہے؟اسی طرح عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ پارک کا باقاعدہ ہینڈنگ اوور اور ٹیکنگ اوور کب ہوا؟ بجلی کا مستقل کنکشن اور پانی کا نظام کس ادارے کی ذمہ داری ہے؟ اور مستقبل میں اس عوامی اثاثے کی دیکھ بھال کے لیے کتنے وسائل مختص کیے گئے ہیں؟کیونکہ کسی ترقیاتی منصوبے کی اصل کامیابی اس کے افتتاح یا تعمیر مکمل ہونے میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ برسوں بعد بھی وہ منصوبہ اسی مقصد کے لیے فعال اور خوبصورت رہے جس مقصد کے لیے اسے تعمیر کیا گیا تھا۔حبیب جالب پارک بھی محض ٹف ٹائلز، پودوں، گراؤنڈز، عمارتوں اور بیٹھنے کی جگہوں کا نام نہیں۔ یہ عوام کے پیسے سے بنایا گیا عوامی اثاثہ ہے۔اگر اسے مستقل صفائی، پانی، بجلی، روشنی، باغبانی، سکیورٹی اور بروقت مرمت میسر آ جائے تو یہ اوکاڑہ کے شہریوں، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک بہترین تفریحی اور کھیلوں کا مرکز بن سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ کا فوری نوٹس یقیناً امید کی ایک کرن ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان احکامات کے اثرات عملی طور پر پارک کے ہر حصے میں نظر آئیں۔تاکہ کل جب کوئی شہری حبیب جالب پارک میں داخل ہو تو اسے بیٹھی ہوئی ٹف ٹائلز، خود رو جھاڑیوں، اندھیرے اور پانی کی کمی کے مسائل کے بجائے وہی خوبصورتی، سبزہ، کھیل اور تفریح نظر آئے جس کا خواب 13 کروڑ 83 لاکھ 73 ہزار روپے کی لاگت سے اس منصوبے کی صورت میں دیکھا گیا تھا۔منصوبہ عوام کے پیسے سے بنا ہے، اس لیے اس کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی عوام کی ترجیح ہونی چاہیے۔



