ستمبر 11, 2026

بیوروکریسی کا بے لگام گھوڑا اور پاکستان ریلوے کی زبوں حالی

تحریر:محمد انور بھٹی

سنا تو بہت تھا کہ بیوروکریسی ایک ایسا موزوں اور طاقتور گھوڑا ہے جسے لگام ڈالنا آسان کام نہیں مگر بعض اوقات حالات ایسے واقعات سامنے لے آتے ہیں کہ محض سنی سنائی بات پر یقین نہیں رہتا بلکہ عملی مشاہدہ بھی اس حقیقت کی تصدیق کرنے لگتا ہے کہ افسر شاہی واقعی ایک بے لگام گھوڑا ہے اور اس پر سواری ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان ریلوے اس کی ایک ایسی جیتی جاگتی مثال ہے۔واضح رہےکہ یہ ادارہ صرف پٹڑیوں، انجنوں اور بوگیوں کا نام نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی روزی، کاروبار، سفر، ملازمت اور معاشی زندگی اس سے وابستہ ہے مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ قومی ادارہ رفتہ رفتہ اپنی رونق، طاقت اور وقار کھوتا چلا جا رہا ہے۔ ریلوے لائنیں بوسیدہ، اسٹیشن خستہ حال، ریلوے کالونیاں ویران، رہائشی مکانات شکستہ، چار دیواریاں منہدم، صفائی کا نظام ناقص، پینے کے پانی کی قلت، بجلی کے مسائل اور سکیورٹی کے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں۔ جبکہ دوسری طرف وہ ملازمین جنہوں نے اپنی جوانیاں، صحت اور زندگی اس ادارے کے پہیے کو رواں رکھنے میں صرف کر دیں آج اپنی ہی پنشن، گریجویٹی، میرج گرانٹ، بینولنٹ فنڈ، فیئر ویل گرانٹ اور دیگر جائز حقوق کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان ریلوے کے مسائل بہت زیادہ ہیں اصل سوال یہ ہے کہ آخر ان مسائل کا ذمہ دار کون ہے اور ان کا حل تلاش کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
یہ سوال اس وقت اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب ایک طرف ادارے کا وزیر موجود ہو دوسری طرف چیف ایگزیکٹو آفیسر اور اعلیٰ افسران موجود ہوں مگر ادارے کے بنیادی معاملات سے متعلق معلومات بھی ان کے درمیان واضح نہ ہوں۔ خانیوال میں ایک پریس بریفنگ کے دوران پیش آنے والا واقعہ اسی صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وزیر صاحب صحافیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے اور بتایا جا رہا تھا کہ تین ٹرینوں کو اپ گریڈ کیا جانا ہے۔ دو ٹرینوں کے نام بتا دیے گئے مگر تیسری ٹرین کا نام بتانے کا مرحلہ آیا تو وزیر صاحب خود بھی اسے یاد نہ کر سکے۔ انہوں نے اپنے ساتھ کھڑے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ تیسری ٹرین کون سی ہے مگر صورتحال اس وقت مزید دلچسپ بلکہ تشویش ناک ہوگئی جب سی ای او صاحب بھی اس سوال کا فوری جواب نہ دے سکے۔ اور وزیر صاحب کو کہنا پڑا کہ آپ بھی میرے جیسے ہی ہو۔ یہ محض ایک نام بھول جانے کا واقعہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن اگر کسی ادارے کے سربراہان ایک اہم اعلان کے بنیادی نکات سے ہی پوری طرح آگاہ نہ ہوں تو سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پھر ادارے کے اصل مسائل، زمینی حقائق، ملازمین کی مشکلات اور انتظامی کمزوریوں سے کس کو مکمل آگاہی ہے؟
یہی سوال ملتان ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک دوسرے واقعے نے مزید گہرا کر دیا۔ وزیر صاحب اسٹیشن کا معائنہ کرکے باہر نکلے تو ریلوے کے قلیوں نے انہیں اپنے مسائل اور مطالبات سے آگاہ کیا۔ ان میں ایک اہم مسئلہ قلیوں کے ٹھیکے کا بھی تھا۔ وزیر صاحب نے بتایا کہ لاہور میں انہوں نے قلیوں کا ٹھیکہ ختم کر دیا ہے اور ان کی خواہش یہ ہے کہ محنت کرنے والا قلی اپنی محنت کی کمائی اپنے گھر لے کر جائے، نہ کہ کسی ایسے نظام کا حصہ بنے جہاں اس کی محنت کا بڑا حصہ کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے۔ یہ بات اپنی جگہ خوش آئند تھی مگر جب وزیر صاحب نے مقامی افسران سے پوچھا کہ یہاں یہ نظام کیوں نافذ نہیں ہوا اور قلیوں کا ٹھیکہ کیوں ختم نہیں کیا گیا تو وہاں موجود اعلیٰ افسران ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وزیر ایک پالیسی کا اعلان کر چکے ہیں تو اس پر عمل درآمد کون کرے گا؟ اگر وزیر کے اعلان کے باوجود ماتحت افسران ان فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کرتے تو پھر وزیر کے اختیار کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ اور اگر وزیر کو خود معلوم نہیں کہ اس کے احکامات نیچے تک پہنچے یا نہیں تو پھر افسر شاہی کے اس مضبوط حصار کو کون توڑے گا؟
یہاں ایک بنیادی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وزیر عموماً سیاسی سربراہ ہوتا ہے مگر ادارہ چلانے کا اصل انتظامی ڈھانچہ بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ فائل کہاں جائے گی کس میز پر کتنے دن پڑی رہے گی کس افسر کے دستخط ہوں گے کس اعتراض کے نام پر اسے واپس کیا جائے گا اور کون سا معاملہ ترجیح بنے گا یہ سب انتظامی مشینری طے کرتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک منتخب وزیر اور طاقتور افسر شاہی کے درمیان اصل فرق سامنے آتا ہے۔ وزیر عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے اس سے سوال کیا جاتا ہے صحافی پوچھتے ہیں ملازمین شکایت کرتے ہیں عوام احتجاج کرتے ہیں مگر فائلوں کے پیچھے بیٹھے بہت سے افسران عوام کے براہ راست احتساب سے محفوظ رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کاغذ پر سب کچھ درست، رپورٹ میں سب کچھ مکمل، میٹنگ میں سب کچھ تسلی بخش اور فائل میں سب کچھ "سب ٹھیک ہے” دکھائی دیتا ہے مگر جب یہی "سب ٹھیک” حقیقت کے میدان میں اترتا ہے تو ریلوے کالونی کا ٹوٹا ہوا مکان، پانی سے محروم ملازم، دوائی کے بغیر اسپتال، بقایا جات کے منتظر پنشنر اور فاقہ زدہ بیوہ اس رپورٹ کا منہ چڑا رہے ہوتے ہیں۔
جناب وزیرِ ریلوے اگر واقعی آپ کو ان مسائل کا مکمل علم نہیں تو یہ آپ کے لیے تنقید نہیں بلکہ دعوتِ اصلاح ہے۔ فائلوں سے باہر نکلیے اے سی کے کمروں سے باہر آئیے سرکاری بریفنگز اور رسمی دوروں سے آگے بڑھ کر کسی ریلوے کالونی میں جائیے۔ وہاں کسی کلاس فور کے ملازم کے گھر بیٹھ کر اس سے پوچھئے کہ وہ کس مکان میں رہ رہا ہے اس کے بچوں کے لیے پانی کہاں سے آتا ہے بجلی کا کیا حال ہے کالونی کی چار دیواری کیوں گری ہوئی ہے اور رات کو اس کے گھر والے کتنے محفوظ ہیں۔ کسی ریلوے اسٹیشن پر کھڑے ہو کر کسی کلاس فور کھ ملازم سے پوچھئے کہ وہ دن بھر کتنی محنت کرتا ہے اور گھر جاتے وقت اس کے ہاتھ میں حقیقتاً کتنا پیسہ بچتا ہے۔ کسی ریٹائرڈ ملازم کے گھر جائیے اور پوچھئے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسے اپنے جائز واجبات کے لیے کتنے دفتر، کتنی میزیں اور کتنے دستخط عبور کرنے پڑتے ہیں۔
یہاں سب سے بڑا المیہ ان ریٹائرڈ ملازمین کا ہے جنہوں نے اپنی عمر کا بہترین حصہ پاکستان ریلوے کے نام کر دیا مگر ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے جائز مالی حقوق ہی ان کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن گئے۔ جن لوگوں کو ریٹائر ہوئے تین تین سال گزر گئے ان کی گریجویٹی اور دیگر واجبات اگر بروقت ادا نہ ہوں تو یہ صرف ایک مالی تاخیر نہیں ہوتی بلکہ پورے خاندان کی زندگی رک جاتی ہے۔ کوئی شخص ریٹائرمنٹ کے بعد سوچتا ہے کہ اب گریجویٹی سے اپنا چھوٹا سا مکان بنا لوں گا کسی کو بچوں کی شادی کرنی ہوتی ہے کسی کو قرض ادا کرنا ہوتا ہے کسی کو علاج کرانا ہوتا ہے کسی کو بچوں کی تعلیم جاری رکھنی ہوتی ہے۔ مگر جب وہ رقم وقت پر نہ ملے تو ریٹائرمنٹ کی خوشی ایک طویل انتظار میں بدل جاتی ہے۔ پاکستان ریلوے کے پنشنرز کے مالی واجبات، جن میں گریجویٹی، کمیوٹیشن، بینولنٹ فنڈ، میرج گرانٹ اور فیئر ویل گرانٹ جیسے معاملات شامل ہیں ان معاملات میں تاخیر کے اثرات صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہتے۔ بلکہ یہ مسائل اکثر جان لیوا ثابت ہوتے ہیں ایک عمر رسیدہ شخص جس نے ساری زندگی ملازمت کی ہو جب اپنے جائز پیسوں کے لیے بار بار دفتر کے چکر لگاتا ہے ایک میز سے دوسری میز تک جاتا ہے کبھی فائل مکمل کرنے کا کہا جاتا ہے کبھی کسی دستخط کا انتظار کبھی بجٹ نہ ہونے کا عذر اور کبھی کسی نئے ضابطے کا حوالہ دیا جاتا ہے تو اس کے جسم سے زیادہ اس کا ذہن تھک جاتا ہے۔ مسلسل ذہنی دباؤ انسان کی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے خاندان بھی دیکھنے میں آتے ہیں جہاں مالی پریشانی نے بیماریوں کو جنم دیا کسی نے علاج مؤخر کیا کسی نے بچوں کی تعلیم روک دی اور کسی نے بیٹی کی شادی کا معاملہ برسوں آگے بڑھا دیا۔ اور اسی دوران وہ شخص راہ ازل سدھار گیا یہ انسانی المیہ ہے محض انتظامی مسئلہ نہیں۔ماضی میں پنشنرز کی تنظیموں کی جانب سے بھی یہ مسائل مسلسل اٹھائے جاتے رہے ہیں۔سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی صورتحال ان بیواؤں کی ہے جن کے شوہر ریلوے میں خدمت انجام دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ایک بیوہ کے لیے شوہر کی وفات کے بعد سب سے بڑا سہارا اس کے مرحوم شوہر کے وہ جائز مالی حقوق ہوتے ہیں جن پر اس خاندان کا مستقبل قائم ہوتا ہے۔ اگر وہ حقوق بھی برسوں تک فائلوں میں دبے رہیں تو بیوہ کہاں جائے؟ وہ اپنے بچوں کو کیسے پڑھائے؟ ان کی شادی کیسے کرے؟ گھر کا خرچ کیسے چلائے؟ علاج کیسے کرائے؟ رشتہ دار ہر وقت سہارا نہیں بن سکتے دوست ہمیشہ ساتھ نہیں رہتے اور معاشرہ بھی اکثر غریب کی مجبوری کو دیکھ کر نظریں چرا لیتا ہے۔ ایسی عورت جب ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک اپنی فائل اٹھائے پھرتی ہے تو اس کے ہاتھ میں صرف کاغذات نہیں ہوتے اس کے ہاتھ میں اپنے بچوں کا مستقبل ہوتا ہے۔
یہاں سوال وزیرِ ریلوے سے بھی ہے اور اس افسر شاہی سے بھی جو فائلوں کی دنیا میں فیصلے کرتی ہے۔ اگر کسی بیوہ کو اس کے جائز حقوق کے لیے سالہا سال انتظار کرنا پڑے تو اس تاخیر کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اگر کسی ریٹائرڈ ملازم کی زندگی کی جمع پونجی اس لیے رکی رہے کہ ایک فائل کسی میز پر پڑی ہے تو اس میز کی ذمہ داری کس کی ہے؟ اگر میرج گرانٹ برسوں سے زیر التوا ہے تو اس کے لیے مختص رقم کہاں ہے؟ اگر بینولنٹ فنڈ کی ادائیگی میں تاخیر ہے تو اس کے مستحق خاندانوں کا قصور کیا ہے؟ اگر فیئر ویل گرانٹ نہیں مل رہی تو اس ملازم نے اپنی پوری سروس کے دوران کون سا ایسا جرم کیا ہے کہ ریٹائرمنٹ پر بھی اسے اپنے حق کے لیے انتظار کرنا پڑے؟
ریلوے کے اسپتالوں کی صورتحال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہونی چاہیے۔ عمارتیں موجود ہیں ڈاکٹر موجود ہیں عملہ موجود ہے بجلی کے بل آتے ہیں مگر اگر مریض کے لیے بنیادی ادویات موجود نہ ہوں تو پھر سوال یہ ہے کہ اسپتال کس مقصد کے لیے قائم کیے گئے ہیں؟ علاج گاہ میں مریض دوا کے لیے آئے اور اسے دوا نہ ملے ٹوائلٹ موجود ہو مگر پانی نہ ہو صفائی کا مناسب انتظام نہ ہو تو یہ صرف سہولتوں کی کمی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ترجیحات پر سوال ہے۔ ایک سرکاری اسپتال کی اصل کامیابی خوبصورت عمارت نہیں بلکہ وہ مریض ہے جو علاج پا کر صحت یاب ہو کر گھر واپس جائے۔ ریلوے کالونیوں کا حال بھی اسی زوال کی ایک کھلی کتاب ہے۔ کبھی یہی کالونیاں ریلوے ملازمین کی رہائش، تحفظ اور اجتماعی زندگی کی علامت ہوا کرتی تھیں۔ آج کئی مقامات پر مکان شکستہ ہیں چھتیں خطرناک ہوچکی ہیں پانی کا مسئلہ ہے صفائی کا فقدان ہے چار دیواریاں ٹوٹ چکی ہیں اور بعض جگہوں پر قبضوں کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ اگر ایک سرکاری ادارہ اپنے ہی ملازمین کو محفوظ رہائش نہیں دے سکتا تو اس سے بڑا انتظامی سوال کیا ہوگا؟ جو ملازم رات کے اندھیرے میں ریلوے لائنوں پر اپنی جان خطرے میں ڈال کر ٹرین چلاتا ہے سگنل سنبھالتا ہے پٹری کی نگرانی کرتا ہے بوگیوں کی مرمت کرتا ہے اسٹیشن چلاتا ہے وہ اگر اپنی ہی کالونی میں غیر محفوظ ہو تو یہ صرف ملازم کی نہیں بلکہ پورے ادارے کی ناکامی ہے۔
پاکستان ریلوے کی زبوں حالی کا ایک پہلو انفراسٹرکچر ہے مگر دوسرا اور زیادہ خطرناک پہلو انسانی وسائل کی بے توقیری ہے۔ ٹرین چلانے کے لیے انجن چاہیے انجن چلانے کے لیے ڈرائیور چاہیے سگنل کے لیے عملہ چاہیے پٹری کی حفاظت کے لیے گینگ مین چاہیے اسٹیشن کے لیے اسٹاف چاہیے صفائی کے لیے عملہ چاہیے مسافروں کی سہولت کے لیے قلی اور دیگر کارکن چاہیے مگر اگر یہی لوگ ذہنی، مالی اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا ہوں گے تو ادارے سے بہترین کارکردگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
دنیا کے کامیاب ادارے اپنے ملازمین کو وزن اور اخراجات نہیں بلکہ سرمایہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان ریلوے کو بھی یہ بنیادی اصول سمجھنا ہوگا۔ جو شخص ادارے کو اپنی زندگی کے تیس چالیس سال دیتا ہے اس کے ریٹائر ہونے کے بعد اس کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے جیسے وہ ادارے پر بوجھ بن گیا ہو۔ ریٹائرڈ ملازم دراصل اس ادارے کی تاریخ ہوتا ہے۔ اس کے تجربے، پسینے اور خدمات کا اعتراف اس کے واجبات کی بروقت ادائیگی سے ہونا چاہیے۔
یہاں بیوروکریسی کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ افسر شاہی کا کام وزیر کو اندھیرے میں رکھنا نہیں بلکہ وزیر کو زمینی حقائق سے باخبر رکھنا ہے۔ وزیر کے سامنے ہر معاملے کی خوبصورت فائل رکھ دینا اور یہ تاثر دینا کہ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے دراصل ادارے اور وزیر دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ اگر نچلی سطح پر ملازم رو رہا ہے اور اوپر فائل میں لکھا ہے کہ "کوئی مسئلہ نہیں” اگر کالونی میں پانی نہیں اور رپورٹ میں "تمام بنیادی سہولیات دستیاب” ہے اگر پنشنر برسوں سے واجبات کے انتظار میں ہے اور دفتر میں فائل "زیر کارروائی” ہے تو پھر یہ انتظام نہیں بلکہ حقیقت کو کاغذ کے نیچے دفن کرنے کا عمل ہے۔
وزیرِ ریلوے صاحب آپ نے اگر ملتان اسٹیشن کے باہر کھڑے ہو کر قلیوں کی بات سنی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ اسی طرح کسی دن کسی ریلوے کالونی میں کھڑے ہو کر کلاس فور کے ملازم کی بات بھی سن لیجیے۔ کسی ریٹائرڈ ملازم کے گھر چلے جائیے۔ کسی بیوہ کے پاس بیٹھ کر اس کی پوری داستان سن لیجیے۔ کسی بوڑھے پنشنر سے پوچھ لیجیے کہ وہ کتنے برس سے اپنے واجبات کا منتظر ہے۔ کسی ایسے خاندان سے مل لیجیے جس کا کفیل ریلوے کی ملازمت کرتے کرتے دنیا سے چلا گیا اور جس کے بچے آج بھی اپنے جائز حقوق کے منتظر ہیں۔ ان لوگوں سے بھی ملیے جن کی میرج گرانٹ، بینولنٹ فنڈ، فیئر ویل گرانٹ یا دوسرے واجبات برسوں سے رکے ہوئے ہیں۔ پھر آپ کو شاید کسی بریفنگ کسی فائل یا کسی افسر کی رپورٹ کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ حقیقت خود آپ کے سامنے کھڑی ہوگی۔
اور اگر آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کو ان مسائل کا علم نہیں تھا تو پھر آج سے علم حاصل کیجیے۔ اگر آپ کو بتایا نہیں گیا تو ان افسران سے سوال کیجیے جو آپ کو زمینی حقیقت نہیں بتاتے۔ اگر آپ کے احکامات پر عمل نہیں ہوتا تو ذمہ داروں کا تعین کیجیے۔ اگر فائلیں رکی ہوئی ہیں تو ان کی مدت مقرر کیجیے۔ اگر کسی ملازم کا حق بنتا ہے تو اسے حق ملنا چاہیے احسان نہیں۔ اگر کسی بیوہ کا واجب الادا فنڈ ہے تو وہ خیرات نہیں بلکہ اس کا قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ اگر کسی ریٹائرڈ ملازم کی گریجویٹی بنتی ہے تو وہ اس کی عمر بھر کی خدمت کا حاصل ہے کسی افسر کی صوابدید نہیں۔
اصل مسئلہ شاید یہی ہے کہ پاکستان ریلوے کو صرف ٹرینوں کی تعداد، آمدنی، خسارے، اپ گریڈیشن اور نئے منصوبوں کے اعداد و شمار سے نہیں بچایا جا سکتا۔ ادارہ تب بچتا ہے جب اس کا ملازم مطمئن ہو، ریٹائرڈ ملازم باعزت ہو، بیوہ محفوظ ہو، پنشنر بروقت اپنے حقوق حاصل کرے، اسپتال میں دوا موجود ہو، کالونی میں پانی ہو، مکان محفوظ ہو، اسٹیشن صاف ہو اور افسر اپنے ماتحت کی آواز سننے کے لیے تیار ہو۔
پاکستان ریلوے کسی ایک وزیر، کسی ایک سی ای او یا کسی ایک افسر کا ادارہ نہیں یہ پاکستان کے عوام کا قومی اثاثہ ہے۔ اس کی پٹڑیوں پر صرف ٹرینیں نہیں دوڑتیں بلکہ اس ملک کی معیشت، عوام کی ضرورتیں اور لاکھوں خاندانوں کی امیدیں سفر کرتی ہیں۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ افسر شاہی کے بے لگام گھوڑے کو جواب دہی کی لگام ڈالی جائے۔ وزیر کو بھی بااختیار بنایا جائے اور اسے مکمل معلومات بھی دی جائیں افسر کو بھی اختیار دیا جائے مگر اس کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہو اور سب سے بڑھ کر ادارے کے ملازم کو انسان سمجھا جائے۔
فائلوں میں "سب ٹھیک ہے” لکھ دینا آسان ہے مگر ریلوے کالونی میں کھڑے ہو کر ٹوٹی چھت کے نیچے رہنے والے ملازم سے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ "سب ٹھیک ہے”۔ پنشنر کے خالی بٹوے کے سامنے بیٹھ کر یہ کہنا مشکل ہے کہ "سب ٹھیک ہے”۔ دوائی کے بغیر اسپتال میں پڑے مریض سے یہ کہنا مشکل ہے کہ "سب ٹھیک ہے”۔ برسوں سے اپنے شوہر کے واجبات کی منتظر بیوہ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ کہنا تو شاید ناممکن ہے کہ "سب ٹھیک ہے”۔
اس لیے جناب وزیرِ ریلوے اگر واقعی سب ٹھیک نہیں ہے تو اسے ٹھیک کیجیے۔ فائلوں کے صفحات سے نکل کر ریلوے کے انسانوں کے چہروں کو پڑھیے۔ بیوروکریسی کی بریفنگ سے زیادہ اپنے ملازمین کی آواز پر اعتماد کیجیے۔ افسر شاہی سے رپورٹ ضرور لیجیے مگر رپورٹ کی تصدیق زمین پر جا کر کیجیے۔ جس طرح آپ نے قلیوں کی آواز سنی اسی طرح ریلوے کے ہر اس ملازم اور پنشنر کی آواز سنیے جس نے اپنی زندگی اس ادارے کے نام کردی۔ کیونکہ ریلوے کی اصل طاقت اس کی پٹڑی، انجن یا بوگی نہیں، بلکہ وہ انسان ہیں جو دن رات اپنی محنت سے اس قومی ادارے کا پہیہ گھماتے ہیں۔ اگر ان انسانوں کے آنسو خشک ہوگئے، ان کے گھروں کے چولہے بجھ گئے اور ان کے دل ادارے سے ٹوٹ گئے تو پھر کسی نئی ٹرین کی چمک، کسی نئے اسٹیشن کی تزئین اور کسی نئی فائل کی خوبصورت رپورٹ پاکستان ریلوے کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس نہیں دلا سکے گی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ بیوروکریسی کو لگام دی جائے، افسر شاہی کو جواب دہ بنایا جائے، وزیر کو زمینی حقائق سے باخبر رکھا جائے اور سب سے بڑھ کر اس ادارے کے ان خاموش سپاہیوں کی خبر لی جائے جو اپنی جوانیاں پاکستان ریلوے کے پہیے کو رواں رکھنے میں گزار کر آج اپنے ہی حقوق کے لیے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔ کیونکہ جس ادارے کے محافظ خود بے سہارا ہوجائیں، اس ادارے کی حفاظت آخر کب تک ممکن ہے؟