ستمبر 11, 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی 60 روزہ ڈیڈ لائن ختم، امریکا پر خلاف ورزی کا الزام

امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں مذاکرات کے لیے رکھی گئی 60 روز کی ڈیڈ لائن اختتام پذیر ہو گئی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی یادداشت میں یہ 60 روزہ ڈیڈ لائن دراصل پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاملے پر بامقصد مذاکرات کے لیے رکھی گئی تھی، تاہم امریکا کی جانب سے اس یادداشت کی مسلسل خلاف ورزی کی گئی جس کے باعث فریقین کے درمیان بات چیت کا آغاز ہی نہیں ہو سکا۔ ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے مزید واضح کیا کہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اس وقت پاکستان اور قطر کی مخلصانہ کوششیں جاری ہیں، اور ان کے علاوہ اس معاملے میں کوئی دوسرا ثالث موجود نہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے کو امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر ہو بہو عملدرآمد کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایران نے پورے وقار اور مکمل طاقت کے ساتھ امریکا سے امن مفاہمتی یادداشت تک رسائی حاصل کی تھی، اور یہ یادداشت طے کرتے وقت سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے وضع کردہ تمام اصولوں کو مکمل طور پر مدنظر رکھا گیا تھا۔