ستمبر 10, 2026

کیریئر کونسلنگ یا بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ؟

از قلم ۔ فیصل جنجوعہ

ہمارے تعلیمی نظام میں ایک لفظ بڑی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے: کیریئر کونسلنگ۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس کے سیشن بھی ہوتے ہیں، لیکچرز بھی دیے جاتے ہیں اور ماہرین بھی بلائے جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہمارے بچوں کو اپنے مستقبل کے انتخاب میں درست رہنمائی مل رہی ہے یا کیریئر کونسلنگ بھی ہماری بہت سی دوسری تعلیمی سرگرمیوں کی طرح صرف ایک رسمی کارروائی بن چکی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر بچے اپنا کیریئر خود منتخب نہیں کرتے، بلکہ والدین، معاشرہ، نمبرز اور سوشل اسٹیٹس مل کر ان کے لیے فیصلہ کرتے ہیں۔ بچہ اگر ڈاکٹر بننا نہیں چاہتا تو بھی کہا جاتا ہے کہ "ڈاکٹر بنو، عزت اور پیسہ دونوں ہیں۔” اگر انجینئرنگ کا رجحان نہ ہو تو بھی اسے انجینئرنگ کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ کوئی بچہ کاروبار، گرافک ڈیزائن، ٹیکنالوجی، تدریس، آرٹ، کھیل یا کسی فنی شعبے میں دلچسپی رکھتا ہو تو اسے اکثر یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ "اس میں رکھا ہی کیا ہے؟” یہی وہ مقام ہے جہاں سے مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بچے کے نمبر اکثر اس کی پوری شخصیت کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔ 90 فیصد نمبر لینے والا بچہ ذہین، 70 فیصد والا اوسط اور کم نمبر لینے والا ناکام تصور کیا جاتا ہے حالانکہ امتحانی نتیجہ کسی بچے کی مکمل ذہانت، تخلیقی صلاحیت، قائدانہ صلاحیت، عملی مہارت، کاروباری سوچ یا مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کا مکمل پیمانہ نہیں۔ ہر اچھا طالب علم ڈاکٹر نہیں بن سکتا اور ہر کم نمبر لینے والا طالب علم ناکام نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ بچے کی صلاحیت کو پہچانا جائے اور اسے اس میدان میں آگے بڑھایا جائے جہاں وہ اپنی بہترین کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ والدین اپنی خواہشات بچوں پر مسلط نہ کریں، کئی والدین بچوں کے مستقبل کا فیصلہ دراصل اپنی ادھوری خواہشات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ جو والدین خود کسی خاص شعبے میں نہ جا سکے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ وہی خواب پورا کرے۔ لیکن بچے والدین کے نامکمل خواب مکمل کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوتے۔ والدین کا کردار راستہ منتخب کرنا نہیں بلکہ بچے کو اپنا راستہ سمجھنے میں مدد دینا ہونا چاہیے۔ سکول بھی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں صرف والدین کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی درست نہیں۔ ہمارے بہت سے تعلیمی اداروں میں کیریئر کونسلنگ ابھی تک ایک سالانہ پروگرام، ایک تقریر یا چند بروشرز تک محدود ہے۔ بچے کو یونیورسٹیوں کے نام بتا دینا کیریئر کونسلنگ نہیں۔ اسے یہ سمجھانا ضروری ہے کہ مختلف شعبوں میں داخلے کے لیے کون سی قابلیت چاہیے، مستقبل میں ان شعبوں کے مواقع کیا ہیں، کن مہارتوں کی ضرورت ہوگی، روزگار کی صورتحال کیا ہے اور اگر ایک راستہ کامیاب نہ ہو تو متبادل راستے کون سے ہیں۔AI کے دور میں پرانی فہرستیں کافی نہیں آج دنیا اس رفتار سے تبدیل ہو رہی ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے کیریئر گائیڈز بھی کئی معاملات میں پرانے ہو سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، آٹومیشن، ڈیٹا، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، ڈیجیٹل بزنس، آن لائن تعلیم اور نئی ٹیکنالوجیز نے روزگار کی دنیا کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس لیے آج کے بچے کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ "کیا بننا ہے؟” اسے یہ بھی سکھانا ہوگا کہ: "بدلتی ہوئی دنیا میں خود کو کیسے قابلِ قدر بنانا ہے؟” ڈگری کافی نہیں، مہارت بھی ضروری ہے ایک وقت تھا جب ڈگری کو ملازمت کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ آج صورتحال مختلف ہے۔ کئی شعبوں میں ڈگری کے ساتھ عملی مہارت، کمیونیکیشن، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، ٹیکنالوجی کا استعمال، تخلیقی سوچ اور مسلسل سیکھنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ ہم بچوں کو ڈگری کے پیچھے لگا دیتے ہیں، لیکن اکثر یہ نہیں سکھاتے کہ ڈگری کے بعد عملی دنیا میں کام کیسے کرنا ہے۔ یہ ہماری کیریئر کونسلنگ کی سب سے بڑی خامیوں میں سے ایک ہے۔ کیریئر کونسلنگ کب شروع ہونی چاہیے؟ کیریئر کونسلنگ کا آغاز میٹرک کے بعد نہیں ہونا چاہیے۔ بچے کی دلچسپی اور صلاحیتوں کو ابتدائی جماعتوں ہی سے سمجھنے کی کوشش ہونی چاہیے بچوں کو مختلف شعبوں سے متعارف کرایا جائے، انہیں عملی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے، مختلف پروفیشنز سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات کروائی جائے اور انہیں یہ موقع دیا جائے کہ وہ خود دریافت کریں کہ ان کی دلچسپی کہاں ہے۔ کیونکہ جس بچے کو اپنی صلاحیت کا علم ہی نہیں، وہ اپنے مستقبل کا درست فیصلہ کیسے کرے گا؟ اصل سوال،اب وقت آگیا ہے کہ ہم خود سے ایک سنجیدہ سوال کریں: کیا ہم بچوں کو کیریئر کا انتخاب سکھا رہے ہیں یا صرف معاشرے کے پسندیدہ پیشوں کی طرف دھکیل رہے ہیں؟ اگر ہمارا جواب دوسرا ہے تو ہمیں اپنی پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے۔ کیریئر کونسلنگ کسی بچے کو صرف یہ بتانے کا نام نہیں کہ وہ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل یا سرکاری افسر کیسے بن سکتا ہے۔ حقیقی کیریئر کونسلنگ بچے کو خود کو پہچاننے، اپنی صلاحیت دریافت کرنے، امکانات کو سمجھنے اور اپنے لیے درست راستہ منتخب کرنے کی صلاحیت دینے کا نام ہے۔ اگر ہم نے یہ کام نہ کیا تو ممکن ہے ہمارے پاس آنے والے برسوں میں بہت سی ڈگریاں ہوں، مگر ان ڈگریوں کے مطابق درست سمت رکھنے والے نوجوان کم ہوں۔بچے کا مستقبل ہماری خواہشات کا میدان نہیں؛ یہ اس کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ہے۔ اور اس فیصلے میں غلط رہنمائی صرف ایک غلط مضمون یا غلط ڈگری کا انتخاب نہیں کرتی، بلکہ کبھی کبھی پوری زندگی کی سمت بدل دیتی ہے۔