ستمبر 10, 2026

المصدق انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن کھاریاں میں یومِ تخلیق پاکستان کے حوالے سے شاندار تقریری مقابلہ

المصدق انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن کھاریاں (عسکری کالج اینڈ یونیورسٹی) میں یومِ تخلیق پاکستان کے حوالے سے شہر بھر کے تعلیمی اداروں کے سٹوڈنٹس کے درمیان تقریری مقابلہ ہوا، جس کی صدارت ڈائریکٹر جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید صاحب نے کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع خان صاحب مہمانِ خصوصی تھے۔

پروگرام کے آرگنائزر پروفیسر راجہ شہزاد احمد نے بتایا کہ پنجاب کالج کھاریاں، پنجاب کالج لالہ موسیٰ اور دار ارقم کے طلباء و طالبات نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی اور بہترین انداز میں اپنا پیغام نئی نسل تک پہنچایا۔ ججز کے فرائض پروفیسر شاہد صاحب اور پروفیسر محمد یوسف صاحب نے ادا کیے جبکہ یونیورسٹی سے ڈی پی ٹی ڈیپارٹمنٹ، سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ، انگلش ڈیپارٹمنٹ اور دیگر ڈیپارٹمنٹس کے سٹوڈنٹس نے پرجوش انداز میں یومِ تخلیق پاکستان کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پروفیسر مدثر صاحب نے انجام دیے۔

کالج سیکشن سے حسنین علی طارق، عائشہ حنیف، ولیجہ نے بہترین تقاریر کیں۔ پنجاب کالج لالہ موسیٰ سے محمد ابراہیم عالم نے اور پنجاب کالج کھاریاں سے فرحان نعیم نے تقاریر کیں اور تخلیق پاکستان کو بیسویں صدی میں قائدِ اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کا عظیم کارنامہ قرار دیا۔ دار ارقم سے عامر اعجاز نے پرجوش انداز میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کیا۔

سفیان شوکت (کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ)، اسماء اور حنا (انگلش ڈیپارٹمنٹ)، انمول اور سویرا (ڈی پی ٹی ڈیپارٹمنٹ)، اسوہ خالد (سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ)، احسن اور مہر (بی ایس نرسنگ ڈیپارٹمنٹ) نے انتہائی پرمغز اور پرجوش گفتگو کی اور کہا کہ آج کا پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے خوابوں کی تعبیر نہیں ہے لیکن ہم ان شاء اللہ، اس وطن کو قائدِ اعظم کے خوابوں کی تعبیر بنانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ ماہر پال (سیکنڈ ایئر) نے ملی ترانہ پیش کیا اور جنت اعوان (مہمان مقررہ) نے یومِ پاکستان کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو مسلمانوں کے تحفظ اور عزت و آبرو کا محافظ قرار دیا۔

آخر میں پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید، ڈائریکٹر ادارہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات اس کا مقدر نہیں ہیں، دیانت داری اور محنت سے اس کو صرف دس سال کے عرصے میں اوجِ ثریا تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو ہندو اکثریت مسلمانوں کو ہڑپ کر جاتی۔ پاکستان اس لیے بنایا گیا کہ اسلام کے اصولوں کی روشنی میں ایسا سسٹم تشکیل دیا جائے جس سے ہر شخص کو معاشی، سماجی تحفظ نصیب ہو اور ہر ایک کو انصاف ملے۔

اس کے بعد پروفیسر ایشلے صاحبہ نے اپنی خوبصورت آواز میں ملی ترانہ پڑھا جس کے بول تھے "اے وطن، پیارے وطن”، انہوں نے اپنی سریلی آواز سے سماں باندھ دیا۔ ججز نے نتائج مرتب کر لیے اور پروفیسر محمد یوسف صاحب نے نتائج کا اعلان کیا، جس کے مطابق فرسٹ پوزیشن سفیان شوکت (بی ایس سی ایس)، سیکنڈ پوزیشن (طالبہ فرسٹ ایئر پری میڈیکل) اور تھرڈ پوزیشن (انمول اور سویرا، ڈی پی ٹی ڈیپارٹمنٹ) نے حاصل کی۔

پروفیسر حمزہ، پروفیسر نبیلہ، پروفیسر لاریب اور پروفیسر نعیم عباس نے بہترین انداز میں اپنے فرائض ادا کیے جبکہ یاسر افتخار کمپیوٹر آپریٹر نے بھی بھرپور تعاون کیا۔ پروگرام کے اختتام پر سٹاف کے ہمراہ ڈائریکٹر صاحب نے "آزادی کیک” کاٹا۔