ستمبر 10, 2026

ترکیے کے وزیرِ خارجہ کا بیان، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ ایران کے خلاف نہیں

ترکیے کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی دفاعی معاہدے کا ہدف ہرگز ایران نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے کسی بھی ملک کو ہدف نہیں بنایا گیا جب تک وہ معاہدے کے کسی رکن ملک پر خود حملہ نہ کرے۔

حاکان فیدان کے مطابق یہ معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر ہونے والا حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس دفاعی اتحاد کے تحت وزرائے خارجہ کی ایک کمیٹی اور جنرل سیکرٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا جو نیٹو کے نظام سے گہری مماثلت رکھے گا۔

ترک وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی سلامتی ترکیے کے مفادات سے براہِ راست جڑی ہے، اس لیے ترکیے کو سعودی عرب کی جانب سے قائم کردہ بین الاقوامی اتحادی کوششوں میں شامل ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کچھ تکنیکی معاملات طے پانے کے بعد اس دفاعی معاہدے میں مصر کی شمولیت کا بھی قوی امکان ظاہر کیا ہے۔