اگست 5, 2026

ووٹ کے سوداگر، کھاریاں کے مسیحا بھی

تحریر : محمد عارف خان (کھاریاں)


جمہوریت کی اصل روح یہ ہے کہ عوام اپنے نمائندے آزادانہ شعور، دیانت اور اجتماعی مفاد کو سامنے رکھ کر منتخب کریں۔ ووٹ صرف ایک پرچی نہیں بلکہ ایک امانت ہے، ایک گواہی ہے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ جب یہ امانت کردار، اہلیت اور خدمت کے بجائے برادری، دولت، اثر و رسوخ یا وقتی مفاد کی بنیاد پر دی جانے لگے تو جمہوریت کمزور پڑ جاتی ہے، معاشرہ تقسیم ہو جاتا ہے اور عوام اپنے حقیقی نمائندوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
کھاریاں کی سیاست برسوں سے اسی تلخ حقیقت کا سامنا کر رہی ہے۔ ہر انتخابی موسم میں کچھ چہرے اچانک عوام کے "مسیحا” بن کر ابھرتے ہیں۔ برسوں عوام سے دور رہنے والے لوگ گلیوں، محلوں اور دیہات کا رخ کرتے ہیں، وعدوں کے انبار لگاتے ہیں، برادریوں کی بنیاد پر صف بندیاں کرتے ہیں اور مقامی اثر و رسوخ کو ووٹوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انتخاب ختم ہوتے ہی وہی عوام دوبارہ اپنے مسائل—ٹوٹی سڑکوں، ناقص صحت کی سہولیات، بے روزگاری اور بنیادی حقوق کی محرومی—کے ساتھ تنہا رہ جاتے ہیں۔
آج کی سیاست کا سب سے افسوس ناک پہلو ووٹ کی خرید و فروخت ہے۔ کہیں ووٹ چند ہزار روپوں کے عوض بکتا ہے، کہیں وقتی سفارش کی قیمت پر، کہیں برادری کے دباؤ میں اور کہیں سیاسی مفاہمت کی نذر ہو جاتا ہے۔ جو لوگ اپنی برادری یا حلقۂ اثر کے ووٹوں کو ایک سودے کی طرح استعمال کرتے ہیں وہ درحقیقت جمہوریت کی بنیادوں کوکھوکھلا کر رہے ہیں۔ جب ووٹ کی قیمت ضمیر کے بجائے دولت سے طے ہونے لگے تو اہل اور دیانت دار افراد کے آگے بڑھنے کے راستے خود بخود بند ہو جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو قیادت ووٹ خرید کر اقتدار حاصل کرتی ہے وہ اقتدار کو خدمت نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھتی ہے۔ پھر عوامی وسائل عوام کی فلاح کے بجائے سیاسی مفادات کی نذر ہونے لگتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبے، تعلیم، صحت اور روزگار پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور عوام ہر انتخاب کے بعد بھی وہیں کھڑے نظر آتے ہیں جہاں پہلے تھے۔
تاہم سارا بوجھ صرف سیاست دانوں یا بااثر طبقات پر ڈال دینا بھی انصاف نہیں۔ ووٹر کو بھی اپنے ضمیر کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ جب تک ووٹ کو قومی امانت اور دینی ذمہ داری سمجھ کر استعمال نہیں کیا جائے گا اس وقت تک حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ چند لمحوں کے فائدے کے لیے فروخت ہونے والا ووٹ درحقیقت پورے معاشرے کے مستقبل کا سودا ہوتا ہے۔
کھاریاں کو ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو صرف انتخابی موسم کے نہیں بلکہ ہر موسم کے ساتھی ہوں۔ جو عوام کے درمیان رہیں ان کے دکھ درد بانٹیں، مسائل سنیں اور جواب دہ ہوں۔ خدمتِ خلق ہی وہ معیار ہے جس پر حقیقی قیادت کو پرکھا جانا چاہیے۔ جو لوگ سال بھر عوام کی خدمت کرتے ہیں—چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت یا تنظیم سے تعلق رکھتے ہوں—انہی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ووٹ مانگنے سے پہلے خدمت، دیانت، کردار اور مسلسل عوامی رابطے کو سیاست کا بنیادی اصول بنانا ہوگا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ کھاریاں کی سیاست شخصیت پرستی، برادری ازم اور ووٹ کی تجارت سے نکل کر کردار، خدمت، دیانت اور اہلیت کی سیاست کی طرف سفر کرے۔ عوام کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ووٹ کے سوداگر پیدا کریں گے یا حقیقی خدمت گزار منتخب کریں گے۔
جس دن ووٹ ضمیر کی آواز، خدمت کے ریکارڈ اور کردار کی بنیاد پر پڑنا شروع ہو گیا اسی دن کھاریاں کی سیاست کا رخ بھی بدل جائے گا۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے سے مضبوط نہیں ہوتی بلکہ ووٹ کی حرمت کو برقرار رکھنے سے مضبوط ہوتی ہے۔
جب ووٹ بکے گا تو عوام ہاریں گے اور جب ووٹ جاگے گا تو کھاریاں بھی جیتے گا