وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سسٹم کی کسمپرسی پر دیے گئے بیان پر اپنے تفصیلی ردعمل میں کہا ہے کہ اگر نظام کو مضبوط کرنا ہے اور بنیادی تبدیلیاں لانی ہیں تو اس کا اصل اور آئینی فورم پارلیمنٹ ہے، جس کے محسن نقوی خود بھی ایک معزز رکن ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے محسن نقوی کی جانب سے سسٹم کی کسمپرسی پر اظہارِ خیال کو سنا ہے اور ذاتی طور پر وہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی خود ایک پاور ہاؤس ہیں، تاہم اگر سسٹم کو مضبوط کرنا اور بنیادی تبدیلی لانی ہے تو اس کا اصل فورم پارلیمنٹ ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق اس معاملے کو کابینہ میں بھی زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے، جس سے یہ ادارے اور نظام مضبوط ہوں گے اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی، جبکہ سسٹم کا ارتقائی عمل دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات کے تابع رہا ہے جسے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی صاحب نے سسٹم کی کسمپرسی پہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں ذاتی طور پہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ھوں ۔ نقوی صاحب تو ماشا ءاللہ خود ایک پاور ھاؤس ھیں میں بھی بحثیت ایک سیاسی ورکر شدت سے محسوس کرتا ھوں سسٹم کا ارتقائ عمل یا evolution کا پراسیس دہائیوں سے گروہی و…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) August 1, 2026
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ محسن نقوی پارلیمنٹ اور کابینہ کے اجلاس میں کبھی کبھار ہی شرکت کرتے ہیں، ان اداروں کو غیر متعلق بنا کر تاجر برادری کو بلا کر اتنی بڑی بات کرنا ان کے نزدیک مطلوبہ اثر نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محسن نقوی گزشتہ ساڑھے تین سال سے نظام کے انتہائی طاقتور عہدوں پر فائز ہیں اگر وہ چاہتے تو اس عرصے میں سسٹم میں تبدیلی کے حوالے سے پیشرفت کر سکتے تھے تاہم دیر آید درست آید۔ خواجہ آصف نے نیشنل ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس کے 13 نکات کا ذکر کیا، جن میں سے ایک پوائنٹ پر عملدرآمد افواج کی جانب سے جانوں کی قربانیوں کے ذریعے ہو رہا ہے، جبکہ باقی 12 نکات وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہیں جن پر عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ محسن نقوی سسٹم میں تبدیلی کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں اور اپنی وزارت سے اصلاحات شروع کریں، صرف تاجر برادری ہی نہیں بلکہ پوری قوم سسٹم میں مثبت تبدیلی کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔





