جولائی 12, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا باضابطہ اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز شامی صدر احمد الشرع کو ایک باضابطہ خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ انہوں نے شام کو امریکی بلیک لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق یہ خط انقرہ میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے بعد شامی صدر کے حوالے کیا گیا۔ اپنے خط میں صدر ٹرمپ نے شامی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے شام کی تعمیرِ نو کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کر رہے ہیں تاکہ شام جلد از جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ متعدد امریکی کمپنیاں شام میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں جو ملک کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور خوشحال بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ صدر ٹرمپ نے اس فیصلے سے امریکی کانگریس کو بھی باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے، جو 45 روز کے اندر اس کا جائزہ لے گی جس کے بعد یہ فیصلہ نافذ العمل ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل نیٹو اجلاس کے موقع پر شامی صدر احمد الشرع سے ہونے والی ملاقات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی استحکام کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ احمد الشرع کے اقتدار میں آنے کے بعد شام کافی مستحکم ہو چکا ہے اور وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔