قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے پی سی بی کے ایک خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی کپتانی کرنا ہمیشہ ان کے لیے ایک بڑا اعزاز رہا ہے اور انہوں نے ماضی کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے جس کی بدولت وہ اس بار بہتر پلاننگ اور پختگی کے ساتھ ٹیم کو لیڈ کریں گے۔ اپنی بیٹنگ اور تنقید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کریز پر ان کی سوچ ہمیشہ ٹیم کی ضرورت کے تابع ہوتی ہے؛ اگر تیز کھیلنے کی ضرورت ہو تو جارحانہ اور اگر صورتحال تقاضا کرے تو وہ دفاعی بیٹنگ کرتے ہیں، جبکہ وہ مثبت تنقید کو ہمیشہ سنتے ہیں اور مفید باتوں پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
بابراعظم نے نوجوان کھلاڑیوں کو مشکل وقت میں سپورٹ کرنے اور انٹرنیشنل کرکٹ کے دباؤ کو کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں ڈسپلن، فٹنس اور پرفارمنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) کا ریڈ بال کیمپ کھلاڑیوں کو مشکل کنڈیشنز کے لیے تیار کرنے میں انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویسٹ انڈیز کا آئندہ دورہ چیلنجنگ ضرور ہوگا لیکن ٹیم کی تیاریاں مکمل ہیں اور کئی کھلاڑیوں کو کاؤنٹی کرکٹ کا جو تجربہ حاصل ہے وہ انگلینڈ اور دیگر مختلف کنڈیشنز میں مددگار ثابت ہوگا، کیونکہ نتائج راتوں رات نہیں بلکہ ایک بہترین روٹین سے آتے ہیں اور ٹیم شائقینِ کرکٹ کی توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔





