گجرات: (پریس ریلیز) درگاہ مقدسہ نیک آباد مراڑیاں شریف میں عظیم الشان شہادت کربلا کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ہزاروں حضرات و خواتین نے شرکت کی۔ جن کیلئے علیحدہ علیحدہ انتظامات کئے گئے تھے۔ ممتاز علمائے کرام اور مشائخ عظام نے خطاب کرتے ہوئے گل گلستان رسول ﷺ امام عالی مقام حضرت امام حسین و دیگر شہداء کربلا رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل مناقب اور شہادتوں کا تذکرہ کیا اور انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر پیر مسعود قادری، پیر عثمان افضل قادری، سید علی حیدر شاہ، علامہ ساجد القادری، علامہ راشد تنویر، علامہ ندیم بن صدیق اسلمی، مولانا منیر شاد، مولانا افضل بٹ، مولانا عامر سہیل نے خطاب کیا جبکہ نقابت مولانا حمیر علی قادری، تلاوت مولانا شیراز اور ہدیہ نعت بحضور سرور کونین ﷺ مولانا مدثر شریف قادری نے پیش کی۔

مقررین نے کہا کہ امام عالی مقام سیدنا امام حسین حبیب خدا ﷺ کے مشابہ تھے اور امام الانبیاء ﷺ، حضرت علی المرتضیٰ اور سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہما کی بے مثل تربیت کا نتیجے میں اعلیٰ ترین سیرت کے مالک تھے۔ آپ انتہائی پاکباز، متقی، پرہیزگار، شب بیدار، روزوں کی کثرت کرنے والے، بے حد صدقہ و خیرات کرنے والے، انتہائی بہادر، غیور، صاحب استقامت، حق گو، نیکی کے کاموں میں بڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔ رسول خدا ﷺ نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا فرمائی تھی کہ اے اللہ! جو ان سے محبت کرے تو بھی ان سے محبت فرما۔ مقررین نے کہا کہ واقعہ کربلا صبح قیامت تک مشعل نور اور صبر واستقامت کی عظیم مثال ہے۔ محبت امام پاک کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنا کردار بہترین کریں اور ان عظیم ہستیوں کی تعلیمات پر عمل کریں۔






