جولائی 17, 2026

کراچی رینجرز کیمپ حملے کا ڈراپ سین: گرفتار زخمی دہشت گرد کا اعتراف جرم، افغانستان سے تربیت اور آپریٹ ہونے کا انکشاف

کراچی میں سندھ رینجرز کے کیمپ پر حملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے گرفتار زخمی دہشت گرد عثمان علی نے سنسنی خیز اعترافات کیے ہیں۔ عثمان علی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے تین دیگر ساتھیوں عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق کے ساتھ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے پاکستان آیا تھا، اور رینجرز کیمپ پر بم دہشت گرد جانان نے پھینکا تھا۔ گرفتار دہشت گرد کے مطابق وہ سات دن قبل باجوڑ کے رہائشی عبدالہادی کے پاس آئے تھے جو اب مارا جا چکا ہے، جبکہ حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا۔ عثمان علی نے بتایا کہ وہ حملے کے بعد فرار ہوتے ہوئے گولی لگنے سے زخمی ہو کر گر گیا اور پکڑا گیا۔

دہشت گرد عثمان علی نے مزید انکشاف کیا کہ افغانستان میں ان کے کمانڈر کا نام احرار مولوی ہے اور انہیں عمر قاری نے خودکش جیکٹ بنانے سمیت دیگر عسکری ٹریننگ دی تھی۔ کراچی آنے سے قبل تمام انتظامات افغانستان سے ہی مکمل کیے گئے تھے۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ انہیں پہلے فوج اور رینجرز میں فرق معلوم نہیں تھا، یہاں آنے کے بعد رینجرز سے واقف کروایا گیا اور انہیں کافر کہہ کر حملے پر اکسایا گیا۔ دوسری جانب دفاعی اور تزویراتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد کے یہ اعترافات ثابت کرتے ہیں کہ عبوری افغان طالبان حکومت کے دور میں افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان متعدد بار ٹھوس شواہد پیش کر چکا ہے لیکن افغان طالبان کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر عملی اقدامات سامنے نہیں آئے۔