برطانوی خبر رساں ادارے نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ڈیل کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والی شخصیت اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک وقت تھا جب نیتن یاہو امریکا کو ایران کے خلاف اپنے جارحانہ مقاصد پر قائل کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے، لیکن اب صورتِ حال بالکل برعکس ہے اور واشنگٹن انہیں اس امن ڈیل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو اس جنگ کے ذریعے خود کو ایک مضبوط اور ناگزیر لیڈر ثابت کرنا چاہتے تھے، مگر اب امریکی صدر انہیں اور ان کے تحفظات کو اس اہم ترین ڈیل پر کسی طور ترجیح دینے کو تیار نہیں ہیں۔
رپورٹ میں اسرائیل کی اندرونی سیاسی صورتِ حال کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو کو اس وقت اندرونی طور پر بھی شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور ان کے سیاسی حریف انہیں مزید کوئی سیاسی رعایت (اسپیس) دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد بڑی فتح کے دعوے تو کیے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایران تو دور کی بات، لبنان میں حزب اللہ کو بھی شکست دینے میں بری طرح ناکام رہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو پہلے میدانِ جنگ میں اپنے طے شدہ جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے اور اب امریکا ایران ڈیل کی کامیابی کے بعد سفارتی محاذ پر بھی ان کے ہاتھ مکمل طور پر خالی رہ گئے ہیں۔





