سرگودھا میں قتل کی جانے والی 7 سالہ بچی منتہا زہرہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں مقتولہ سے قتل سے قبل جنسی زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق معصوم بچی کی موت شہ رگ کٹنے کی وجہ سے ہوئی، جبکہ ملزم کے وحشیانہ تشدد کے باعث بچی کے چہرے اور ماتھے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور اس کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے 7 واضع نشانات پائے گئے۔ واضح رہے کہ 7 سالہ منتہا زہرہ گزشتہ روز قریبی کریانہ کی دکان پر سامان خریدنے گئی تھی جہاں اسے درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد بیدردی سے قتل کر دیا گیا، جس کا مرکزی ملزم بعد ازاں مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ شدید عوامی غم و غصے کے باعث ملزم کے اہل خانہ نے اس کی لاش لینے سے انکار کر دیا جبکہ اہل علاقہ نے اسے آبائی قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت بھی نہیں دی۔
دوسری جانب مقتولہ منتہا زہرہ کے لواحقین نے کیس کی اب تک کی تفتیش پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری انصاف کی اپیل کی ہے۔ مقتولہ کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کی مدد سے بچی کی لاش ایک عمارت کی تیسری منزل سے برآمد ہوئی تھی اور واقعے کے وقت دکان میں مجموعی طور پر 5 افراد موجود تھے۔ لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف مرکزی ملزم کی ہلاکت پر کیس بند نہ کیا جائے بلکہ دکان میں موجود تمام پانچوں افراد کو شاملِ تفتیش کر کے واقعے کے سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔





