چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے ٹیکس چوری کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کسی تاجر کا طرزِ زندگی اس کی ظاہر کردہ آمدنی کے برعکس شاہانہ ہوا تو اس کا لازمی آڈٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ کوئی بھی تاجر محض 25 ہزار روپے ادا کر کے اپنی تمام تر ٹیکس ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آزاد ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کا تعین تاجر کی اصل آمدنی اور طرزِ زندگی کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
چیئرمین ایف بی آر نے مزید وضاحت کی کہ جن تاجروں کی فروخت زیادہ ہے، انہیں ہر صورت مقررہ شرح کے مطابق پورا ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک میں تقریباً 70 لاکھ افراد ایسے ہیں جو اپنی آمدنی کے مطابق درست مقدار میں ٹیکس ادا نہیں کر رہے، جو معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ کارپوریٹ سیکٹر پر سپر ٹیکس کا نفاذ اصولی طور پر درست اقدام نہیں تھا، بلکہ اسے مخصوص معاشی اور مالی مجبوریوں کے تحت عارضی طور پر عائد کیا گیا تھا۔





