جون 15, 2026

ڈنگہ: پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافے کے باعث کاشتکار دھان کی بوائی سے مایوس، رواں سیزن پیداوار میں 15 فیصد کمی کا خدشہ

ڈنگہ (نامہ نگار) پیداواری لاگت میں بے حد اضافہ کے باعث کاشتکاروں نے دھان کی بوائی میں دلچسپی چھوڑ دی۔ آنے والے موسم میں دھان کی پیداوار میں 15 فیصد کمی کا امکان ہے۔ یوریا کھاد‘ ڈی اے پی کھاد کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ڈیزل کی لاگت آخری حدود تک جا چکی ہے۔ بجلی پہلے ہی مہنگی ہے۔ اب نئے بجٹ میں وفاقی حکومت نے زرعی ادویات پر بھی 18 فیصد جی ایس ٹی لاگو کر دیا ہے۔ حالیہ موسمی حالات کے باعث مون سون کی بارشیں بھی معمول سے کم ہونے کا امکان ہے۔ دھان کی فصل کو پانی کی بے حد ضرورت ہوتی ہے اگر ڈیزل اتنا مہنگا ہو گا تو کاشتکار کیسے پانی پورا کرے گا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کاشتکاروں نے کاشت کی اقسام سمیت دیگر زرعی مشوروں کے لئے مایوس ہو کر زراعت دفتر آنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ کیونکہ پیداواری لاگت اتنی زیادہ ہے کہ کاشتکار کو دھان کا ریٹ 70 فیصد کم تک بھی نہیں ملے گا۔ اس لئے پنجاب بھر کی طرح ڈنگہ اور نواحی کونسلوں میں اس بار دھان کی پیداوار میں کمی کی توقع ہے۔