جون 15, 2026

قومی اسمبلی کا بجٹ سیشن: بانی پی ٹی آئی ہوتے تو امریکا و اسرائیل کو ایران پر حملے کی ہمت نہ ہوتی، عامر ڈوگر ، اپوزیشن اور حکومتی اتحادیوں کی بجٹ پر کڑی تنقید

قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوران اپوزیشن ارکان اور حکومتی اتحادیوں کی جانب سے بجٹ پر گرما گرم بحث اور شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عامر ڈوگر نے کہا کہ اگر آج بانی پی ٹی آئی وزیرِ اعظم ہوتے تو اسرائیل اور امریکا کو ایران پر حملے کی کبھی ہمت نہ ہوتی۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ والے ہمیں کھلاڑی اور اناڑی کہتے تھے اور خود کو ملک چلانے والا مستری قرار دیتے تھے، ہم مانتے ہیں کہ ہر دور میں مداخلت ہوتی رہی ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ اپنی اسپیس واپس لے اور ملک کو آگے بڑھائے۔

سابق اسپیکر اسد قیصر نے بجٹ کو مکمل طور پر آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ملک کی معاشی صورتحال کے باعث 90 ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار ختم کر چکی ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہم ملک کی خاطر میثاقِ جمہوریت پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پی ٹی آئی کی خاتون رکن شاندانہ گلزار نے اسے گزشتہ 5 سال کا بدترین بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دو موروثی خاندانوں کا بجٹ ہے جو ملک میں معاشی تباہی لائے گا اور غریب کو مزید پیس کر رکھ دے گا؛ حکومت کی جانب سے 8400 کمانے والے کو غریب اور 8500 والے کو امیر سمجھنا کھلی منافقت ہے۔

دوسری جانب، حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی بجٹ کے مختلف پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ دفاعی اخراجات کے لیے ہم اپنی جیب سے پیسے خوشی سے دیں گے لیکن وزیرِ اعظم کو 500 ملین سے زیادہ کی سلیب پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنا چاہیے کیونکہ یہ ٹیکس کے اوپر ٹیکس ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غریب نے قرض لے کر سولر پینل لگائے، حکومت نے پینل پر تو ٹیکس نہیں لگایا لیکن انورٹر پر ٹیکس لگا کر غریب پر بوجھ بڑھا دیا۔ پی پی رکن مہیش کمار مالانی نے این ایف سی کو نہ چھیڑنے کو پیپلز پارٹی کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ہماری جماعت ساتھ ہے یہ حکومت قائم رہے گی، تاہم انہوں نے تنخواہوں میں مزید اضافے اور آئی ایم ایف سے نجات کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر زور دیا۔