لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل فریضہ ہے جسے کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے بچے کا نان نفقہ ختم کرانے کے لیے باپ کی جانب سے دائر اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور فیملی کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کے درمیان 2005 میں طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں کی موجودگی میں معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت باپ نے 60 ہزار روپے نان نفقہ کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، 2019 میں خاتون کی جانب سے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیے جانے پر باپ نے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی تھی۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمہ داری ختم نہیں کر سکتی۔ نان نفقہ باپ پر نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی و مذہبی ذمہ داری بھی ہے اور یہ ایک واجب الادا قرض ہے جو کسی صورت ختم نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھیجنے کا حکم دیا ہے۔





