امریکا کی ریاست کیلی فورنیا کے ساحلی شہر سین ڈیاگو سے ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایک مسلح شخص نے شہر کی سب سے بڑی مسجد اور اسلامی مرکز پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں مسجد کی حفاظت پر مامور ایک سکیورٹی گارڈ (محافظ) جان کی بازی ہار گیا ہے، جبکہ وہاں موجود متعدد نمازی اور دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور ابتدائی بیان میں تصدیق کی ہے کہ اب صورتحال پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے اور مزید خطرہ ٹل چکا ہے۔
سین ڈیاگو کے میئر ٹوڈ گلوریئا نے اس اندوہناک واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ وہ ‘اسلامک سینٹر آف سین ڈیاگو’ میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے سے پوری طرح باخبر ہیں اور سکیورٹی ادارے الرٹ ہیں۔ انہوں نے عوام کی حفاظت کے پیشِ نظر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فی الوقت اس مخصوص علاقے اور مسجد کی طرف جانے سے مکمل گریز کریں تاکہ امدادی کارروائیوں اور تحقیقات میں کوئی خلل نہ پڑے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ابھی تک حکام کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا جا سکا کہ حملہ آور مسجد کی عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوا تھا یا اسے باہر ہی روک دیا گیا تھا، اور نہ ہی اسپتال منتقل کیے گئے زخمیوں کی شناخت ابھی تک ظاہر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سین ڈیاگو کی جس مسجد اور اسلامی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، وہ اس پورے خطے کا سب سے بڑا اور مرکزی اسلامی مرکز مانا جاتا ہے۔ اس سینٹر میں نہ صرف روزانہ پانچ وقت کی نمازیں باجماعت ادا کی جاتی ہیں اور جمعہ کا بڑا اجتماع ہوتا ہے، بلکہ یہاں مسلم کمیونٹی کے لیے تعلیمی سیمینارز، سماجی خدمات اور دیگر اہم مذہبی و ثقافتی تقاریب بھی باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں۔ اس پرامن جگہ پر فائرنگ کے واقعے نے مقامی مسلم کمیونٹی سمیت پورے شہر میں خوف و ہراس اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔





