اپریل 26, 2026

مستقبل کی صدارت کا خواب یا ناکامی کا خوف؟ مارکو روبیو ایران مذاکرات سے دور

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جو کہ قومی سلامتی کے مشیر کا عہدہ بھی سنبھالے ہوئے ہیں، اہم عالمی بحرانوں خصوصاً ایران کے ساتھ جاری جنگ میں پسِ منظر میں چلے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اپنے داماد جیراڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس نے ان مذاکرات کی قیادت کی تھی۔ اس تمام عمل میں مارکو روبیو کی عدم موجودگی نے واشنگٹن کے سفارتی حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکو روبیو کا اس پیچیدہ اور سیاسی طور پر غیر مقبول معاملے سے فاصلہ اختیار کرنا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ روبیو مستقبل میں صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند ہیں اور وہ ایران جیسے بڑے بحران کی ممکنہ ناکامی کا بوجھ اپنے سیاسی کیریئر پر نہیں لینا چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لاطینی امریکہ جیسے روایتی معاملات پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں جبکہ ایران جیسے حساس ترین معاملے میں دیگر شخصیات کو آگے رکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں ہینری کسنجر کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مارکو روبیو تاریخ کی وہ دوسری شخصیت ہیں جو بیک وقت وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر کے عہدوں پر فائز ہیں، لیکن عملی طور پر ان کے اختیارات کسنجر کے مقابلے میں محدود نظر آتے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ میں روایتی سفارت کاری کا انداز بدل چکا ہے جہاں اب وزارتِ خارجہ کے بجائے مخصوص ایلچیوں اور صدر کے قریبی حلقے پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اگرچہ ان تاثرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روبیو ہر اہم معاملے میں شامل ہیں، لیکن عملی طور پر مذاکرات کی میز پر ان کی غیر موجودگی ان کے محدود ہوتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔